Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2236

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُوْ بِدُعَاءٍ إِلَّا آتَاهُ اللّٰهُ مَا سَأَلَ، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوْءِ مِثْلَهٗ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيْعَةِ رَحِمٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما من أحد يدعو بدعاء إلا آتاه الله ما سأل، أو كف عنه من السوء مثله ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتےہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جوشخص کوئی دعا مانگے تو ضرور اللہ تعالٰی اس کی منہ مانگی مراد دیتا ہے یا اس جیسی کوئی آفت دور کردیتا ہے ۱؎جب تک کہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کر ے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے کہ"اُدْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ"مجھ سے دعا کرو میں تمہاری قبول کروں گا اس حدیث نے بتایا کہ قبولیت دعا کی چند صورتیں ہیں:ایک منہ مانگی مراد مل جانا،دوسرے اس جیسی آفت ٹل جانا،مثلًا کسی کے ہاں سو روپیہ کی چوری ہونی تھی،اس نے اللہ سے دعا مانگی کہ خدایا مجھے سو روپیہ دے اسے سو روپے تو نہ ملے مگر اتنی چوری ٹل گئی،بہرحال دعا رائیگاں نہ گئی لہذا مانگی مراد نہ ملنے پر دل تنگ نہ ہو بعض مرادیں نہ ملنا ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔
۲
؎یہ قبول دعا کی شرط ہے کہ انسان بری چیز کی دعا نہ مانگے کہ وہ قبول نہیں اور نہ اس دعا کی یہ تاثیریں ہیں۔خیال رہے کہ کبھی بندہ بری بات بھی مانگ لیتا ہے اور پالیتاہے مگر یہ اس کی دعا کی قبولیت نہیں بلکہ ہونا ایسا ہی تھا اتفاقًا اس نے مانگ بھی لیا،نیز اس دعا پر ثواب کوئی نہیں بلکہ گناہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2236