Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2229

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَدْعُوْا عَلٰى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوْا عَلٰى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوْا عَلٰى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوْا مِنَ اللّٰهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيْهَا عَطَاءَ فَيَسْتَجِيْبُ لَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَذُكِرَ حَدِيْثُ ابْنِ عَبَّاسٍ: "اِتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ". فِيْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تدعوا على أنفسكم، ولا تدعوا على أولادكم، ولا تدعوا على أموالكم، لا توافقوا من الله ساعة يسأل فيها عطاء فيستجيب لكم". رواه مسلم.
وذكر حديث ابن عباس: "اتق دعوة المظلوم". في كتاب الزكاة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ اپنی جانوں پر بددعا کرو اور نہ اپنی اولاد پر اور نہ اپنے مالوں پر ۱؎ایسا نہ ہو کہ اتفاقًا وہ ایسی گھڑی ہو جس میں اللہ سے جو مانگا جائے وہ ملے اور تمہاری یہ ہی دعا قبول ہوجائے ۲؎(مسلم)اور حضرت ابن عباس کی یہ حدیث کہ مظلوم کی بددعا سے بچوکتاب الزکاۃمیں ذکر کی جاچکی۔

شرح حدیث

۱∞؎دعا کے بعد اگرعلٰیآئے تو وہ دعا بمعنی بددعا ہوتی ہے اور اگر لام آئے تو بمعنی دعائے خیر یہاںعلٰیہے۔مطلب یہ ہے کہ غصّے یا جوش میں اپنی جان،اولاد کو نہ کوسو،مال،جانور،غلام کی ہلاکت کی دعا نہ کربیٹھو۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ان بد دعاؤں کے عادی ہوچکے ہیں،بات بات میں کہتے ہیں،مرجاؤں تو مٹ جائے،تجھے سانپ کانٹے،تجھے گولی لگے۔معاذ الله !اور اگر کوئی ایسا حادثہ ہوجائے تو پھر سر پکڑ کر روتے ہیں۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ قبولیت کی گھڑی صرف جمعہ یا شبِ قدر یا آخری رات ہی میں نہیں ہے اور وقت میں بھی ہوتی ہے،مگر کبھی کبھی تو ہر ساعت میں احتمال ہے کہ وہ قبولیت کی ہو،اس لیے ہمیشہ اچھی دعائیں ہی مانگے،کبھی بددعا منہ سے نہ نکالے۔خیال رہے کہ لعان میں ایسے ہی مباہلہ میں اپنے کو بددعا دینا اظہار حق کے لیے ہوتا ہے وہ محض بددعا نہیں ہوتی وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر میں حق پر نہ ہوں تو ہلاک ہوجاؤں،لہذا یہ حدیث آیت لعان اور آیت مباہلہ کے خلاف نہیں،وہ آیات اپنی جگہ حق ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2229