Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2228

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "دعوةُ الْمُسْلِم لِأَخِيْهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ،عِنْدَ رَأْسِهٖ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ، كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيْهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهٖ : آمِيْنَ وَلَكَ بِمِثْلٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "دعوة المسلم لأخيه بظهر الغيب مستجابة،عند رأسه ملك موكل، كلما دعا لأخيه بخير قال الملك الموكل به : آمين ولك بمثل". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی پس پشت دعا ضرور قبول ہے ۱؎اس کے سر کے پاس فرشتہ مقرر ہوتا ہے ۲؎کہ وہ جب اپنے بھائی کے لیے دعا خیر کرتا ہے تو مقرر فرشتہ کہتا ہے آمین اور تجھے بھی اس جیسا ملے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کسی کے سامنے اس کے لیے دعا کر نے میں چاپلوسی،خوشامد،ریاء وغیرہ کا احتمال ہے مگر پس پشت دعا میں یہ کوئی احتمال نہیں،اس میں اخلاص ہی ہوگا اسی لیے پس پشت کی قید لگائی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کی خدمت بہترین عبادت ہے اور اس کی خیر خواہی بہترین عمل۔
۲
؎یہ فرشتہ کوئی اور فرشتہ ہے جس کے ذمہ یہ ہی خدمت کہ ایسی دعاؤں پر آمین کہا کرے،محافظ یا کاتب اعمال فرشتہ نہیں وہ فرشتہ تو داہنے بائیں ہر وقت رہتے ہیں۔
۳
؎یعنی تم مسلمان بھائی کے لیے دعا کرو تو فرشتہ تمہارے لیے دعا کرے گا اگر تم نے فرشتہ کی دعا لینا ہے تو دوسروں کو دعا دو بعض بزرگ جب کوئی دعا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنے لیے بھی جمع کے صیغہ سے دعا کرتے ہیں،ان عملوں کا ماخذ یہ حدیث ہے یہ عمل بھی ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کر لے پھر دوسرے کے لیےربّ اغفرلی ولوالدیّ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2228