Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2259

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُوْ بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيْهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيْعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ بِهَا إِحْدٰى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهٗ دَعْوَتَهٗ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهٗ فِي الآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنهُ مِنَ السُّوْءَ مِثْلَهَا" قَالُوْا: إِذَنْ نُكْثِرُقَالَ: "اَللّٰهُ أَكْثَرُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي سعيد الخدري أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث: إما أن يعجل له دعوته، وإما أن يدخرها له في الآخرة، وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها" قالوا: إذن نكثرقال: "الله أكثر". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کوئی ایسی دعا مانگے جس میں نہ گناہ ہو نہ قطع رحمی ۱؎مگرتعالٰی اسے تین میں سے ایک ضرور دیتا ہے یا تو اس کی دعا یہاں ہی قبول کرلیتا ہے ۲؎یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کردیتا ہے ۳؎یا اس جیسی مصیبت ٹال دیتا ہے ۴؎صحابہ نے عرض کیا تب تو ہم خوب زیادہ دعائیں کریں گے فرمایا رب کی عطا بہت زیادہ ہے۔۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس دعا میں نہ تو لازم گناہ ہو نہ متعدی،مثلًا کہے کہ فلاں اجنبیہ سے وصال نصیب کر یا مجھے دولت دے تاکہ میں اپنے عزیزوں کو اپنا غلام بنا کر رکھوں کہ ایسی دعائیں ممنوع ہیں۔
۲
؎کہ اس کی منہ مانگی مراد جلد یا کچھ دیر سے دے دیتا ہے۔
۳
؎کہ دنیا میں تو اس کی مراد پوری نہیں کرتا مگر آخرت میں اس کے عوض اس کے گناہ معاف فرمادے گا اس کے درجے بلند کردے گا۔
۴
؎معلوم ہوا کہ دعا سے رد بلا ہوتا ہے اس لیے مراد پوری نہ ہونے پر ملول نہ ہونا چاہیئے۔
۵
؎کہ اگر سارا جہاں ہمیشہ دعائیں مانگے تو رب تعالٰی کے ہاں سے محروم نہ ہوں گے مگر۔شعر
جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو در کریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2259