Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2257

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ يَقُوْلُ: إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ، مَا زَادَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلٰى هٰذَا . يَعْنِيْ: إِلَى الصَّدْرِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن ابن عمر أنه يقول: إن رفعكم أيديكم بدعة، ما زاد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على هذا . يعني: إلى الصدر. رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن عمر سے وہ فرماتے تھے کہ تمہارا زیادہ ہاتھ اٹھانا بدعت ہے ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے زیادہ نہ اٹھائے یعنی سینہ تک ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اے لوگو ں تمہارا ہر دعا میں سر سے اونچے ہاتھ اٹھانا اور دعاؤں میں فرق نہ کرنا کہ کس دعا میں اتنے اونچے ہاتھ اٹھائے جائیں یہ خلاف سنت ہے،اسے چھوڑ دینا چاہیئے،خیال رہے کہ بدعت کے ایک معنے تو ہیں نیا کام یعنی جو کام حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ایجاد ہو،اس بدعت کی دو قسمیں ہیں،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ،جس کی پوری بحثباب الاعتصاممیں گزرچکی، جمع قرآن کے وقت بعض صحابہ نے حضرت ابوبکر صدیق سے عرض کیا تھا کہ آپ وہ کام کیوں کر رہے ہیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا یعنی یہ بدعت ہے تو حضرت صدیق نے فر مایا کہو الله ھو خیررب کی قسم یہ اچھا کام ہے۔یعنی بدعت حسنہ ہے،دوسرے خلاف سنت کام یہ بدعت ہمیشہ سیئہ اور بری ہی ہوگی،یہاں دوسرے معنے مراد ہیں کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تو عمومًا سینہ تک ہاتھ اٹھائے اور تم عمومًا سر سے اونچے اٹھاتے ہو تو اس سنت کو چھوڑتے ہو،اس سے باز آجاؤ۔
۲
؎پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس سے عام دعائیں مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عمومی دعاؤں میں کبھی ہاتھ کم اٹھاتے تھے کبھی زیادہ مگر زیادتی سینہ سے اوپر نہ ہوئی،لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کبھی سر سے اونچے ہاتھ اٹھانے کا ثبوت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2257