Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2260

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "خَمْسُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُوْمِ حَتّٰى يَنْتَصِرَ، وَدَعْوَةُ الْحَاجِّ حَتّٰى يَصْدُرَ، وَدَعْوَةُ الْمُجَاهِدِ حَتّٰى يَفْقِدَ، وَدَعْوَةُ الْمَرِيْضِ حَتّٰى يَبْرَأَ، وَدَعْوَةُ الأَخِ لِأَخِيْهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ". ثُمَّ قَالَ: "وَأَسْرَعُ هٰذِهِ الدَّعْوَاتِ إِجَابَةً دَعْوَةُ الأَخِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعَوَاتِ الْكَبِيْرِ".

وعن ابن عباس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "خمس دعوات يستجاب لهن: دعوة المظلوم حتى ينتصر، ودعوة الحاج حتى يصدر، ودعوة المجاهد حتى يفقد، ودعوة المريض حتى يبرأ، ودعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب". ثم قال: "وأسرع هذه الدعوات إجابة دعوة الأخ بظهر الغيب". رواه البيهقي في "الدعوات الكبير".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں پانچ دعائیں بہت قبول کی جاتی ہیں مظلوم کی دعا حتی کہ بدلہ لے لے ۱؎حاجی کی دعا حتی کہ لوٹ آئے ۲؎غازی کی دعا حتی کہ جنگ بند ہوجائے ۳؎بیمار کی دعا حتی کہ تندرست ہوجائے مسلمان بھائی کی پس پشت دعا پھر فرمایا ان سب میں مسلمان بھائی کی دعا پس پشت زیادہ قبول ہوتی ہے ۴؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں روایت کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎زبان سے یا ہاتھ سے یا حاکم کے ہاں فریاد کرکے جس سے اس کی مظلومیت ختم ہوجائے۔
۲
؎خواہ حج اکبر یعنی حج کرے یا حج اصغر یعنی عمرہ کرے دونوں کی دعائیں اپنے وطن تک آنے تک قبول ہیں اس لیے حجاج سے دعائیں کراتے ہیں۔
۳
؎یا یہ غازی اپنے گھر لوٹ آئے مشکوٰۃ شریف کے بعض نسخوں میںحتی یقعدہے یعنی مجاہد جہاد سے بیٹھ ر ہے یعنی یا تو فراغت جہاد کی وجہ سے یا درمیان جہاد اپنے گھر آجائے۔
۴
؎کیونکہ اس دعا میں خلوص بہت ہوتا ہے،نیز یہ شخص دوسروں کے لیے مفید ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2260