Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2230

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ" ثُمَّ قَرَأَ: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

عن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الدعاء هو العبادة" ثم قرأ: وقال ربكم ادعوني أستجب لكم رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دعا ہی عبادت ہے ۱؎پھر یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارا رب فرماتا ہے مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎الدعاءمیں الف لام عہدی ہے یعنی اللہ سے دعا کرنا بھی عبادت ہے کہ اس میں اپنی بندگی اور رب تعالٰی کی ربوبیت کا اقرار و اظہار ہے،یہ ہی عبادت ہے،لہذا اس پر بھی ثواب ملے گا،لہذا اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بندے سے کچھ مانگنا گویا اس کی عبادت ہے یہ شرک ہے،لہذا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے مانگنا،حاکم سے حکیم سے مالداروں سے کچھ مانگنا نہ یہ اصطلاحی دعا ہے اور نہ کفر و شرک،بندے بندوں سے دارو و دعا مانگا ہی کرتے ہیں غرض یہ کہ دعاء شرعی اور ہے اور دعائے لغوی کچھ اور جیسے صلوۃ شرعی اورہے یعنی نماز دعا لغوی کچھ اورنزول رحمت،دعائے رحمت وغیرہ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ" یہاں صلوۃ شرعی مراد ہے اورصلوا علیہمیں صلوۃ لغوی مراد یا یوں کہو کہ اللہ کے بندوں سے دعا مانگنا رب تعالٰی کی عبادت ہے نہ کہ ان بندوں کی،جیسے کعبہ کی طرف سجدہ کرنا رب تعالٰی کی عبادت ہے نہ کہ کعبہ کی بہرحال یہ حدیث وہابیوں کی دلیل نہیں ہوسکتی۔
۲
؎یہ آیت شہادت کے طور پر پیش فرمائی کہ جیسے رب تعالٰی نے نماز روزے کا حکم دیا ہے ویسے ہی دعا کا حکم دیا ہے۔اور اس پر قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں،مدعی پورا کردینا کوئی آفت ٹال دینا،درجات بڑا دینا،وغیرہ اس کے بعد رب تعالٰی فرمارہاہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ"۔دعا کے بعد عبادت کا ذکر فرمانے سے معلوم ہوا کہ دعا عبادت ہے۔ خیال رہے کہ دعا مانگنا اکثر مستحب ہے واجب نہیں لہذا آیت کی یہ وعید اس کے لیے ہے جو تکبر سے دعا نہ مانگےکہ یہ تو کفر ہے۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2230