Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2233

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ،وَلَا يَزِيْدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن سلمان الفارسي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يرد القضاء إلا الدعاء،ولا يزيد في العمر إلا البر". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قضاء کو دعا کے سواء کوئی چیز نہیں لوٹاتی ۱؎اور نیک سلوک کے سواء کوئی چیز عمر نہیں بڑھاتی ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دعا کی برکت سے آتی بلا ٹل جاتی ہے دعائے درویشاں رد بلا،قضاء سے مراد تقدیر معلق ہے یا معلق مشابہ با لمبرم کہ ان دونوں میں تبدیلی ترمیمی ہوتی رہتی ہے تقدیر مبرم کسی طرح نہیں ٹلتی،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ"۔کہا جاتا ہے کہ بخار آگیا تھا دوا سے اتر گیا دوا نے تقدیر مبرم کو نہیں بدل دیا بلکہ اس کے اثر سے چڑھا ہوا بخار اتر گیا تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ اسے بخار آئے گا اگر فلاں دوا کرے تو اتر جائے گا اس کے اور بھی معنے کیے گئے ہیں مگر یہ توجیہ بہتر ہے۔
۲
؎یعنی لوگوں سے خصوصًا ماں باپ اور اہل قرابت سے اچھا سلوک کرنا عمر بڑھا دیتا ہے اس کی بھی وہ صورت ہے جو ابھی عرض کی گئی ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنۡقَصُ مِنْ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ"۔معلوم ہوا کہ عمر میں زیادتی کمی ہوتی ہے۔اور فرماتاہے:"یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ"۔معلوم ہوا کہ تقدیر میں محوو اثبات ہوتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ایک ہے اللہ کا علم،ایک ہے اللہ تعالٰی کے فرشتوں کو اعلام تحریر سے ہو یا بغیر تحریر،ا ن دونوں کا نام تقدیر ہی ہے مگر پہلی تقدیر میں تبدیلی قطعًا ناممکن ہے دوسری تقدیر میں تبدیلی ممکن بلکہ واقع ہے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد سوم میں ملاحظہ کیجئے۔حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر آدم علیہ السلام کی دعا سے ساٹھ سال سے سو سال ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2233