Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2955

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُميَّةَ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعَهٗ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةً مَضْمُونَةً» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أمية بن صفوان عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه وسلم استعار منه أدراعه يوم حنين فقال: أغصبا يا محمد؟ قال: «بل عارية مضمونة» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت امیہ ابن صفوان سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان سے حنین کے دن ان کی زرہ عاریۃً لی وہ بولے یا رسولاللّٰهکیا غضب سے لیتے ہیں ۲؎فرمایا نہیں بلکہ عاریۃً جس کا ضمان دیا جائے گا۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎امیہ کے والد کا نام صفوان ابن امیہ ابن خلف جمحی ہے،یہ قرشی ہیں،فتح مکہ کے دن یہ بھاگ گئے تھے،عمیر ابن وھب اور وھب ابن عمیر نے ان کے لیے حضور سے امان لے لی،حضور انور نے ان دونوں کو اپنی چادر عنایت کی،فرمایا صفوان کو دے دو یہ امان کی چادر ہے۔چنانچہ یہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر ایمان نہ لائے،غزوہ حنین و طائف میں موجود رہے مگر بحالت کفر حضور انور نے انہیں ان دونوں غزوؤں کی غنیمت سے دیا تالیف قلب کے لیے،تب حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم کی داد و دہش دیکھ کر آپ ایمان لے آئے مکہ مکرمہ میں رہے،پھر ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے،حضرت عباس کے پاس ٹھہرے حضرت عباس نے ان کی آمد کی خبر حضور انور کو دی،حضور نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں،ان کی بیوی ایک ماہ پہلے ایمان لاچکی تھیں،آپ کا نکاح قائم رکھا گیا،صفوان مکہ معظمہ میں ۴۲ھ؁∞ میں فوت ہوئے انکا اسلام قبول ہوا بڑے فصیح و اشرف مکہ میں تھے۔(اکمال،مرقات)
۲
؎ابھی صفوان ایمان نہ لائے تھے بحالت کفر ہی مدینہ منورہ میں ٹھہرائے گئے تھے تاکہ قرآن شریف سنیں شاید ایمان کی توفیق مل جائے ورنہ مکہ معظمہ واپس جائیں اس وقت کایہ واقعہ ہے،آپ آداب سے واقف نہ تھے ورنہ مؤمن ایسی بات کبھی نہیں کہہ سکتا۔اس سے معلوم ہوا کہ کفار سے عاریۃً ہتھیار زرہ وغیرہ لے کر جہادکرسکتے ہیں۔
۳
؎یہاں ضمان سے مراد خود اس زرہ کی واپسی ہے نہ کہ گم ہوجانے کی صورت میں اس کی قیمت کیونکہ عاریت والی چیز مستعیر کے پاس امانت ہوتی ہے ہلاک ہوجانے پر اس کا ضمان نہیں،یا مطلب یہ ہے کہ اگر بحالت جہاد یہ زرہ خراب ہوگئی تو ضمان دیا جائے گا کہ تلف کردینے کی صورت میں عاریت کا ضمان ہے۔حضرت علی،ابن مسعود،خواجہ حسن بصری،قاضی شریح کا یہ ہی مذہب،امام اعظم بھی یہ ہی فرماتے ہیں مگر حضرت ابن عباس،ابوہریرہ،عطاء فرماتے ہیں کہ عاریت تلف ہوجانے پر ضمان ہے،یہ ہی امام شافعی و احمد بن حنبل کا مذہب ہے وہ حضرات اس حدیث کے ظاہری معنی سے دلیل پکڑتے ہیں،امام صاحب کے نزدیک چونکہ عاریت امانت ہے لہذا تلف ہوجانے پر اس کا ضمان نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2955