Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2956

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةٌ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي أمامة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم» . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عاریۃً(مانگی ہوئی چیز)ادا کی جائے اور عاریت کا جانور واپس کیا جائے ۱؎قرض ادا کیا جائے اور کفیل ضامن ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎منحہوہ دودھ کا جانور یا درخت یا زمین ہے جو عاریۃً کچھ روز کے لیے کسی کو دودھ پینے،پھل کھانے،کھیتی باڑی کرنے کو دیئے جائیں،یہ بھی عاریت کی ہی قسم ہے۔اورمؤدۃکے معنی ہمارے ہاں یہ ہیں کہ اصل شے واپس کی جائے گی،امام شافعی کے ہاں یہ ہیں کہ ہلاک ہوجانے پر قیمت یا مثل بھی دیا جائے گا اس اختلاف کا ذکر ابھی گزرچکا۔
۲
؎یعنی مقروض زندگی میں تو خود قرض ادا کرے اور اگر بغیر ادا کیے مرجائے تو اس کے ورثاء اس کے مال سے ادا کریں،ادائے قرض میراث پر مقدم ہے اور قرض کا ذمہ دار وہ ہے کہ اگر مقروض نہ دے تو یہ دے۔خیال رہے کہ کفالہ اور حوالہ میں بڑا فرق ہے یہاں کفیل کا ذکر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2956