Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2948

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا جَادًّا فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَرِوَايَتُهٗ إِلٰى قَوْلِهٖ: جَادًّا

وعن السائب بن يزيد عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يأخذ أحدكم عصا أخيه لاعبا جادا فمن أخذ عصا أخيه فليردها إليه» . رواه الترمذي وأبو داود وروايته إلى قوله: جادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے وہ اپنے والد سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی ۱؎فرمایا تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائیوں کی لاٹھی نہ تو دل لگی سے لے نہ ارادۃً جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے وہ اسے واپس دے دے۲؎(ترمذی،ابوداؤد) اور ابوداؤد کی روایتجاداتک ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صغیر السن صحابی ہیں، ۲ھ؁∞ میں پیدا ہوئے،حجۃ الوداع میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئے،اس وقت آپ سات سال کے تھے،آپ کی کنیت ابو یزید کندی ہے،حضرت عمرنے آپ کو بازار مدینہ کا حاکم مقرر فرمایا تھا، ۸۰ھ؁∞ یا ۸۶ھ؁∞ میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا، آپ مدینہ منورہ کے آخری صحابی ہیں جو وہاں فوت ہوئے۔
۲
؎عصاوہ معمولی لاٹھی کہلاتی ہے جو بوڑھوں کے ہاتھوں میں رہتی ہے کبھی جانور ہانکنے کی قمچی کو عصا کہہ دیتے ہیں،یہاں دونوں معنے بن سکتے ہیں۔مقصدیہ ہے کہ کسی کی معمولی چیز بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر نہ لو۔اگر نادانی میں لے چکے ہو تو معلوم ہونے پر فورًا واپس کردو چیز چھپانے چرانے کا مذاق بھی جائز نہیں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2948