Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2943

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: الْمَنْدُوبُ فَرَكِبَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: «مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ وَإِن وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن قتادة قال: سمعت أنسا يقول: كان فزع بالمدينة فاستعار النبي صلى الله عليه وسلم فرسا من أبي طلحة يقال له: المندوب فركب فلما رجع قال: «ما رأينا من شيء وإن وجدناه لبحرا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس کو فرماتے سنا کہ ایک دفعہ مدینہ میں دہشت پھیل گئی ۱؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ابو طلحہ سے گھوڑا مانگا جسے مندوب کہا جاتا تھا۲؎آپ اس پر سوار ہو ئے پھر جب واپس ہوئے تو فرمایا ہم نے وہاں کچھ بھی نہ دیکھا اور ہم نے اس گھوڑے کو دریا پایا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎افواہ یہ پھیل گئی کہ دشمن کا لشکر یا ڈاکو حملہ آور ہو گئے اس پر شور مچ گیا،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم تن تنہا حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر وہاں پہنچ گئے فرماتے جاتے تھے مت گھبراؤ میں آگیا مت گھبراؤ میں آگیا۔
۲
؎مندوبیا توندبٌسے بنا بمعنی طلب اور بلاوا۔مندوببمعنی مطلوب،مرغوب،محبوب اور یانُدْبَۃٌسے بنا بمعنی اثر زخم،چونکہ یہ گھوڑا بہترین تھا اوراس کے جسم میں زخم کا اثر بھی تھا اس لیے اسے مندوب کہا جاتا تھا۔(مرقات)
۳
؎یعنی وہاں حملہ وغیرہ کچھ نہیں ہوا یونہی وہم تھا اور یہ گھوڑا بہت تیز اور سبک رفتار ہے۔خیال رہے کہ یہ گھوڑا اڑیل تھا آج حضور کی برکت سے ٹھیک ہوگیا پھر ٹھیک ہی رہا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جانور عاریۃً لے سکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جانور کا نام رکھنا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ خطرناک مقام پر اکیلے پہنچ جانا بھی جائز ہے۔چوتھے یہ کہ دشمن کی تحقیق کرنا اور اس سے باخبر رہنا ضروری ہے۔پانچویں یہ کہ خوف دور ہوجانے پر لوگوں کو مطمئن کرنا سنت ہے،آج خطرہ کا بھی الارم(Alarm)ہوتا ہے اور اس کے جاتے رہنے کا بھی۔چھٹے یہ کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو رب نے بہت قوی دل عطا فرمایا تھا اور حضور بے مثل بہادر تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2943