Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2952

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اَلرِّجْلُ جُبَارٌ، وَقَالَ: وَالنَّار جُبَارٌ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الرجل جبار، وقال: والنار جبار» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کھر باطل ہیں اور فرمایا آگ باطل ہے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو چیز جانور کے پاؤں تلے آکر برباد ہلاک ہوجائے اس کا ضمان مالک پر نہیں،یونہی اگرکسی کے گھر کی آگ اُڑ کر دوسرے کی چیز کو جلادے تو آگ والے پر ضمان نہیں،یہ دونوں حکم اس صورت میں ہیں کہ مالک جانور اور آگ والے کی زیادتی نہ ہو،اگر ہوگی تو تاوان لازم ہوگا مثلًا آندھی چلتے ہوئے کوئی بلا وجہ بے احتیاطی سے آگ جلائے جس سے دوسرے کے گھر میں آگ لگ جائے تو یقینًا تاوان واجب ہوگا،یونہی بے احتیاطی سے جانور یا موٹر تیز دوڑائے کہ کوئی کچل جائے تو تاوان یقینًا لازم ہے۔آج کل حکومت بے احتیاط ڈرائیور پر جرمانے وغیرہ کرتی ہے،ریل کے حادثہ کی صورت میں کانٹے والے یا دوسرے ذمہ دار لوگ پکڑے جاتے ہیں،انکا ماخذ اس قسم کی احادیث ہیں۔بہرحال قصوروار کی پکڑ ہے،بے قصور معافی میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2952