Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2960

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهٗ حَتّٰى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ثُمَّ يُطَوَّقَهٗ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يُقْضٰى بَيْنَ النَّاسِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أيما رجل ظلم شبرا من الأرض كلفه الله عز وجل أن يحفره حتى يبلغ آخر سبع أرضين ثم يطوقه إلى يوم القيامة حتى يقضى بين الناس» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ظلمًا بالشت بھر زمین لے لےاللّٰهاسے اس کا مکلف کرے گا اسے سات زمینوں کی تہ تک کھودے پھر قیامت کے دن تک اس کا طوق پہنائے گا حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ غاصب زمین کا تیسرا عذاب ہے یا ایک ہی شخص کو یہ تینوں عذاب تین وقت میں دیئے جائیں گے یا کسی کو وہ گزشتہ عذاب اور کسی کو یہ یعنی یہ شخص خود سات تہ زمین تک بورنگ(Boring)کرے اور خود ہی اپنے گلے میں طوق بنا کر پہنے پھرے۔اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِسے مراد ہے قیامت کا آخری حصہ جس کی تفسیرحتّی یقضیالخ ہے۔خیال رہے کہ قیامت میں مؤمن کے بعض علانیہ گناہوں کی سزا علانیہ ہوگی لہذا یہ حدیث پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2960