Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2951

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ: أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فَقَضٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلٰى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلٰى أَهْلِهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن حرام بن سعد بن محيصة: أن ناقة للبراء بن عازب دخلت حائطا فأفسدت فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن على أهل الحوائط حفظها بالنهار وأن ما أفسدت المواشي بالليل ضامن على أهلها. رواه مالك وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حرام ابن سعد ابن محیصہ سے ۱؎کہ براء ابن عازب کی اونٹنی کسی باغ میں گھس گئی ۲؎اسے خراب کر دیا تو رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فیصلہ یہ فرمایا کہ دن میں تو باغ والوں پر باغ کی حفاظت لازم ہے ۳؎اور رات میں جانور جو بربادی کرجائیں ان کے جانور والے ضامن ہیں ۴؎(مالک،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎حرام تابعی ہیں،ان کے والد صحابی،حرام اپنے والد اور براء ابن عازب رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، ۱۱۳ھ؁∞ میں وفات پائی ثقہ ہیں۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎عربی میں بستان یا روضہ ہر باغ کو کہتے ہیں مگر حائط وہ باغ کہلاتا ہے جس کے اردگرد دیوار ہو۔
۳
؎یعنی باغ والے نے دربار رسالت میں فریاد کی تو فیصلہ یہ فرمایا کہ دن میں باغ والے اپنے باغ کی نگرانی کریں کسی جانور کو نہ گھسنے دیں کیونکہ دن میں عمومًا جانور کام کاج کو نکلتے ہیں ان کے مالک ان کی پوری نگرانی نہیں کرسکتے اور رات کو جانور والے اپنے جانوروں کی نگرانی کریں کہ رات میں جانور باندھے جاتے ہیں۔
۴
؎خلاصہ فیصلہ یہ ہے کہ اگر کسی کا جانورکسی دوسرے کا باغ یا کھیت دن میں خراب کردیں تو اس کا تاون جانور والے پر نہیں کہ قصور باغ والے کا اپنا ہے اور اگر رات میں یہ واقعہ ہوا تو جانور والے پر برباد شدہ باغ کی قیمت باغ کے مالک کو دینا لازم ہے۔کیا ہی نفیس فیصلہ ہے آج کل حکومتیں ایسے جانور کو پکڑ کر قید کردیتی ہیں اور مالک جانور سے جرمانہ خود وصول کرلیتی ہیں جس کا باغ یا کھیت اجڑا اسے کچھ نہیں ملتا یہ ظلم ہے۔حضرت امام شافعی و مالک کے ہاں اگر مالک جانور کے ساتھ ہو اور پھر جانور کھیت برباد کرے منہ سے یا پاؤں سے تو بہرحال جانور والے پر تاوان ہے دن میں برباد کرے یا رات میں،اگر مالک ساتھ نہ ہو تو وہ تفصیل ہے جو یہاں مذکور ہے۔احناف کے ہاں اگر مالک کے ساتھ نہ ہو تو تاوان واجب نہیں خواہ دن میں ہلاکت ہو یا رات میں،تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔(از مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2951