Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2950

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَى اليَدِ مَا أَخَذَتْ حَتّٰى تُؤَدِّيَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: على اليد ما أخذت حتى تؤدي . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لی حتی کہ اسے ادا کر دے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یَدیعنی ہاتھ سے مراد ہاتھ والا ہے۔مطلب یہ ہے کہ جو کوئی کسی کا مال عاریت،امانت،ودیعت،غصب وغیرہ کسی ذریعہ سے لے اس پر اس مال کا لوٹانا واجب ہے جب تک کہ لوٹا نہ دے گا ذمہ دار رہے گا،اگر مال ہلاک ہوجائے تو غاصب پر تاوان لازم ہے،امانت وغیرہ میں تاوان نہیں اور ہلاک کردینے کی صورت میں سب پر تاون ہے غاصب پر۔ بہرحال واپس کرنا لازم ہے مالک مانگے یا نہ مانگے۔عاریت میں مدت معینہ پوری ہوجانے پر بغیر مانگے واپس کرنا لازم ہے مگر امانت بغیر مانگے واپس دینا لازم نہیں مانگنے پر لازم ہے۔(ازمرقات مع زیادۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2950