Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2954

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من دخل حائطا فليأكل ولا يتخذ خبنة . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی باغ میں جائے وہ کھا تو لے ذخیرہ نہ کرے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ بھوکا مسافر جب بھوک سے جان بلب ہو اور کسی باغ پر گزرے جس کا مالک موجود نہیں یا ہے تو اجازت نہیں دیتا،ایسی حالت میں اس کی بغیر اجازت بقدر بقاءحیات پھل کھالے،لے نہ جائے،پھر آمدنی ہونے پر اس کی قیمت ادا کردے لہذا حدیث واضح ہے۔خبنہخ کے پیش ب کے جزم سےخبنسے بنا بمعنی دامن ،دامن میں چھپائی چیز کوخبنہکہتے ہیں پھر ہر ذخیرہ کی ہوئی چیز کو خبنہ کہنے لگے۔(اشعہ،مرقات،لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2954