Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2939

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهٖ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُؤْتٰى مَشْرَبَتَهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهٗ وَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطَعِمَاتِهِمْ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحلبن أحد ماشية امرئ بغير إذنه أيحب أحدكم أن يؤتى مشربته فتكسر خزانته فينتقل طعامه وإنما يخزن لهم ضروع مواشيهم أطعماتهم » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کوئی کسی کا جانور بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے ۱؎کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ کوئی اس کے بالاخانہ پر گھس آئے پھر اس کا خزانہ توڑ کر غلہ لے جائے ۲؎اور لوگوں کے جانوروں کے تھن ان کی غذاؤں کے خزانہ ہیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کسی کی بکری،گائے،بھینس،اونٹنی وغیرہ کا دودھ بغیر اس کی اجازت نہ نکالے،اہل عرب اس طرح دودھ کی چوری بھی کرتے تھے کہ کسی کا جانور پکڑا دودھ دوہ لیا یہ بھی حرام ہے۔
۲
؎بعض نسخوں میں بجائےطَعَامُہٗکےمُتَبَاعَہٗہے، اہلِ عرب اکثر اپنا سامان بالاخانوں پر رکھے تھے اس لیے بالاخانہ کا ذکر فرمایا ورنہ چوری تہہ خانہ سے بھی حرام ہے اور بالاخانہ سے بھی۔
۳
؎یعنی جیسے کسی کا مال بغیر اجازت اس کے گھر سے لینا حرام ہے ایسے ہی کسی کے جانور کا دودھ مالک کی اجازت کے بغیر دوہ لینا حرام ہے،یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے کہ کسی کا جانور بغیر اجازت نہ دوہے،ہاں مخمصہ یعنی سخت بھوک کی حالت میں اجازت ہے کہ اس طرح دوہ کو پی لے اور جان بچالے۔ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں اگر مردار بھی پائے اور غیر کا مال بھی تو مردار کھاکر جان بچالے اور غیر کے مال کو ہاتھ نہ لگائے۔(مرقات)امام محمد و اسحاق کے ہاں دوسرے کا جانور بغیر اجازت دوہ لینا جائز ہے ان کی دلیل حدیث ہجرت ہے کہ صدیق اکبر نے بحالت سفر ایک قریش کے غلام سے اس کی بکری کا دودھ دوہلوایا اور خریدکر حضورکو پلایا،حالانکہ بکری کا مالک وہاں موجود نہ تھا،نیز بعض روایات میں ہے کہ جوکسی کی بکری پائے وہ تین بار آواز دے کہ کس کی بکری ہے میں دودھ دوہتا ہوں اگر تین آوازوں میں مالک نہ ملے تو دوہ لے اور پی لے مگر یہ دلیلیں کمزور ہیں کیونکہ پہلی حدیث کے مطابق کہا جاسکتا ہے کہ اس غلام کو دودھ بیچنے کی مالک کی طرف سے اجازت تھی اور یہ دوسری حدیث مخمصہ کی حالت کے لیے ہے جب کہ بھوک سے جان نکل رہی ہو،ورنہ غیر کا مال بغیر اجازت لینا کس طرح درست ہوسکتا ہے،یوں ہی کسی کے باغ کے پھل اس کی اجازت کے بغیر نہ توڑے نہ کھائے،نہ اٹھائے نہ لے جائے۔جن احادیث میں اجازت ہے کہ کھائے مگر لے نہ جائے وہاں بھی مخمصہ کی حالت مراد ہے کہ بھوکے کی جان پر بن گئی ہے وہ یہ کھاکر جان بچائے،ہاں جنگلی پھل کسی کی ملک نہیں جیسے کوکن بیر وہ شکار کے جانور کی طرح کسی کی ملک نہیں جوچاہے کھائے۔(ازلمعات واشعہ مع زیادۃ)اس کی تحقیق کتب فقہ میں دیکھئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2939