Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2949

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهٖ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهٖ وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من وجد عين ماله عند رجل فهو أحق به ويتبع البيع من باعه . رواه أحمد وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو کسی شخص کے پاس بعینہ اپنا مال پائے وہ وہی اس کا حق دار ہے ۲؎اور خریدار بیچنے والے کا پیچھا کرے ۳؎(احمد،ابو داؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ سمرہ ابن جندب فزاری ہیں،انصار کے حلیف بہت احادیث کے حافظ ہیں، ۵۹ھ؁∞ میں بصرہ میں وفات پائی۔
۲
؎یہ جملہ پہلے بھی دیوالیہ کے بیان میں گزر گیا ہے وہاں اس کا مطلب اور تھایہاں غصب چوری یا ڈکیتی کا مال مراد ہے یعنی اگر غاصب یا چور یا ڈاکو چوری کا مال فروخت کردے،پھر مالک خریدار کے پاس وہ مال پائے تو اس سے لے لے گا خریدار یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے خریدا ہے۔اس سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ ناجائز قبضہ سے قابض مالک نہیں ہوجاتا۔چور رشوت خور سود خور چوری،رشوت اور سود کے مال کے مالک نہیں کہ یہ ناجائز قبضے ہیں۔ دوسرے یہ کہ غیر کا مال بغیر اس کی اجازت فروخت نہیں کر سکتے اگر فروخت کردیا تو بیع درست نہ ہوگی۔
۳
؎یعنی مالک سے خریدار قیمت نہیں مانگ سکتا بلکہ چیز اس کے حوالے کردے گا اور بیچنے والے کا پیچھا کرے گا اور اس سے قیمت لے گا لیکن اگر کوئی شخص جانتے ہوئے چور یا غاصب سے چیزسستی خریدلے تو مجرم ہے کہ یہ چور و غاصب کا مددگار معاون ہے،حدیث میں اس خریدار کا ذکر ہے جو بے خبری سے غاصب سے خریدے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2949