Main Icon

باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2946

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي حُرَّةَالرَّقَاشِي عَنْ عَمِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”.وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتٰبى

وعن أبي حرةالرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في “شعب الإيمان”.والدارقطني في المجتبى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو حرہ رقاشی سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسو لاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خبردار ظلم نہ کرنا خبردار کسی شخص کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے ۲؎(بیہقی شعب الایمان،دارقطنی فی مجتبیٰ)

شرح حدیث

۱∞؎ابوحرہ تابعی ہیں،بصری ہیں۔حق یہ ہے کہ ثقہ ہیں،اگرچہ بعض نے انہیں ضعیف بھی کہا ہے،ان کے چچا صحابی ہیں جن کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر صحابی کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎شخص سے مراد حربی کافر کے علاوہ دیگر لوگ ہیں،یہ حدیث بہت سے احکام کا ماخذ ہے۔مالی جرمانے کسی کی چوری،کسی کا مال لوٹ لینا،کسی کا مال جبرًا نیلام کردینا یہ سب حرام ہے۔خیال رہے کہ دیوالیہ کا مال درحقیقت اس کے قرض خواہوں کا مال ہے اس لیے حاکم دیوالیہ کی اجازت کے بغیر نیلام کردیتا ہے۔غرضکہ بعض صورتیں اس سے مستثنٰی ہیں۔لَا تَظْلِمُوْاکے معنی ہیں کہ غیر پر ظلم نہ کرو یا اپنے پر ظلم نہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2946