Main Icon

باب : عتیرہ کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1479

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحٰى عِيدًا جَعَلَهُ اللهُ لِهٰذِهِ الْأُمَّةِ” . قَالَ لَهٗ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثٰى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: “لَا وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذٰلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللهِ “ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “أمرت بيوم الأضحى عيدا جعله الله لهذه الأمة” . قال له رجل: يا رسول الله أرأيت إن لم أجد إلا منيحة أنثى أفأضحي بها؟ قال: “لا ولكن خذ من شعرك وأظفارك وتقص من شاربك وتحلق عانتك فذلك تمام أضحيتك عند الله “ . رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے بقرعید کے دن عید منانے کاحکم ملاجسے الله نے اس امت کے لیے مقرر کیا ۱∞؎ایک شخص نے آپ سے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم فرمایئے تو اگر میں عاریۃ کا مادہ جانور ہی پاؤں تو کیا اس کی قربانی کردوں فرمایا نہیں۲؎لیکن اپنے بال اور ناخن کتراؤ مونچھیں کٹاؤ زیر ناف کے بال صاف کرو تمہاری یہی مکمل قربانی ہے۳؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎کہ اس دن لوگ کپڑے بدلیں،خوشبوئیں ملیں،نماز بقرعید پڑھیں اورخوشیاں منائیں اورقربانیاں کریں۔خیال رہے کہ یہ سارے احکام حضورصلی الله علیہ وسلم کی ساری امت کے لیے ہیں سوائے نماز بقرعید کے کہ وہ گاؤں والوں کے لیے نہیں مگر اس کا خوشی کا دن ہونا سب کے لیے ہے لہذا یہ جملہ بالکل صحیح ہے اس میں کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں۔۲؎منیحہمنحسے بنا،بمعنی دینا۔اب اصطلاح میںمنیحہوہ جانورکہلاتا ہے جو کچھ دنوں کے لیےکسی کو عاریۃً دے دیا جائے تاکہ وہ اسے چارہ بھی کھلائے اور اس کے دودھ،اون سے فائدہ بھی اٹھائے،پھر مالک کو واپس کردے،چونکہ یہ شخص غریب بھی ہے اور یہ جانور بھی اس کا اپنا نہیں دوسرے کا ہے اس لیے اس کی قربانی سے منع کردیا گیا۔۳؎یعنی غریب آدمی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے،بقرعید کے دن بعدنمازعیدحجامت کرائے توان شاء اللّٰہقربانی کا ثواب پائے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف امیروں پر ہے غریبوں پرنہیں،یہ حدیث گزشتہ قربانی کی احادیث کی شرح ہے۔خیال رہے کہ صاحب مشکوٰۃ اس حدیث کوعتیرہ کے باب میں لائے تاکہ پتہ لگے کہ عتیرہ کوئی شے نہیں کیونکہ سرکار نے سائل سے یہ فرمایا کہ تو قربانی تو نہ کر اور اگر رجب تک تیرے پاس مال آجائے تو عتیرہ کردینا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1479