Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1318

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ حَافَظَ عَلیٰ شُفْعَةِ الضُّحٰى غُفِرَتْ لَهٗ ذنُوبُهٗ وَإِن كَانَت مِثْلَ زُبَدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من حافظ علی شفعة الضحى غفرت له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر» . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اشراق کی دو رکعتوں پر پابندی کرے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر جھاگ جتنے ہوں ۱∞؎(احمد، ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بھیضحٰیسے مراد اشراق کے نفل ہیں،حفاظت سے مراد انہیں ہمیشہ پڑھنا ہے۔بحالت سفر اگر اتنی دیر مصلےٰ پر نہ بیٹھ سکے تو سفر جاری کردے اور سورج چڑھ جانے پر یہ نفل پڑھ لے الله تعالٰی اس پابندی کی برکت سے گناہ بخش دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نفل پر ہمیشگی کرنا منع نہیں ہاں انہیں فرض و واجب سمجھ کر ہمیشگی کرنا ممنوع ہے،لہذا جو لوگ بارھویں تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں یا ہمیشہ گیارھویں کو فاتحہ کرتی ہیں وہ اس ہمیشگی کی وجہ سے گنہگار نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1318