Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1311

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يُصْبِحُ عَلیٰ كُلِّ سُلَامٰى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذٰلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا من الضُّحٰى» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يصبح علی كل سلامى من أحدكم صدقة فكل تسبيحة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وكل تكبيرة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة ويجزئ من ذلك ركعتان يركعهما من الضحى» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے پس ہر تسبیحہ صدقہ ہے اور ہر حمد صدقہ ہے اور ہرتکبیر صدقہ ہے ۱∞؎اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اوران سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں جسے انسان پڑھ لے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان سب میں صدقہ نفلی کا ثواب ہے اور یہ بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ بھی ہے لہذا اگر کوئی انسان روزانہ تین سو ساٹھ نفلی نیکیاں کرے تو محض جوڑوں کا شکریہ ادا کرے گا باقی نعمتیں بہت دور ہیں۔۲؎یہاں چاشت سے مراد اشراق ہی ہے،اس نماز کے بڑے فضائل ہیں۔بہتر یہ ہے کہ نماز فجر پڑھ کر مصلےٰ پر ہی بیٹھا رہے،تلاوت یا ذکر خیر ہی کرتا رہے،یہ رکعتیں پڑھ کر مسجد سے نکلےاِنْ شَاءَاللّٰهُعمرہ کا ثواب پائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1311