Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1321

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: تُصَلِّي الضُّحٰى؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَعُمَرُ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَأَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَا أُخَالُهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن مورق العجلي قال: قلت لابن عمر: تصلي الضحى؟ قال: لا. قلت: فعمر؟ قال: لا. قلت: فأبو بكر؟ قال: لا. قلت: فالنبي صلى الله عليه وسلم ؟ قال: لا أخاله. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مورق عجلی سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ کیا آپ چاشت پڑھتے ہیں فرمایا نہیں میں نے عرض کیا عمر فاروق فرمایا نہیں میں نے عرض کیا اچھا ابوبکر صدیق فرمایا نہیں ۱∞؎میں نے کہا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فرمایا مجھے آپ کا خیال نہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ہمیشگی کی نفی ہے یا مسجد میں ادا کرنے کی،ورنہ یہ حضرات چاشت پڑھتے تھے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔۲؎بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابن عمر نے نماز چاشت کو بدعت فرمایا وہاں اور مسجد میں لوگوں میں اعلان کرکے ادا کرنا مراد ہے اس نماز کا گھر میں ادا کرنا مستحب ہے اور ممکن ہے کہ آپ کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے چاشت پڑھنے کی خبر نہ ہوئی ہو اپنے گمان پر اسے بدعت فرمادیا ہو۔حق یہ ہے کہ چاشت سنت ہے اور اس پرہمیشگی مستحب ہے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1321