Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1312

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّهٗ رَأٰى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحٰى فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هٰذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمِضُ الْفِصَالُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن زيد بن أرقم أنه رأى قوما يصلون من الضحى فقال: لقد علموا أن الصلاة في غير هذه الساعة أفضل إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «صلاة الأوابين حين ترمض الفصال» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے کہ انہوں نے ایک قوم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۱∞؎توفرمایا کہ یہ حضرات جانتے ہیں کہ اس کے علاوہ دوسری گھڑی(ساعت)میں یہ نماز افضل ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقربین کی نماز جب ہے جب کہ اونٹنی کا بچہ گرم ہوجاتا ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اشراق سے متصل چہارم دن گزرنے سے پہلے جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے۔۲؎بعض علماء نے فرمایا کہ چاشت کا وقت بھی طلوع آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور نصف النہار پرختم ہوتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ چہارم دن گزرنے پر پڑھے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ زید ابن ارقم نے افضل فرمایا،یہ نہ کہا کہ یہ نماز وقت سے پہلے پڑھ رہے ہیں،چونکہ اس زمانہ میں گھڑی نہ تھی اس لیے اوقات کا ذکر علامت سے ہوتا تھا آپ نے دوپہر کو اسی علامت سے بیان فرمایا کہ اونٹ کے بچے اون کی وجہ سے جب گرم ہوجائیں یعنی خوب دن چڑھ جائے وقت گرم ہوجائے،چونکہ اس وقت دل آرام کرنا چاہتا ہے اس لیے اسو قت نماز بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1312