Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1317

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهٗ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتّٰى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحٰى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا غُفِرَ لَهٗ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زُبْدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن معاذ بن أنس الجهني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من قعد في مصلاه حين ينصرف من صلاة الصبح حتى يسبح ركعتي الضحى لا يقول إلا خيرا غفر له خطاياه وإن كانت أكثر من زبد البحر» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن انس جہنی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو شخص جب نماز فجر سے فارغ ہو تو اپنے مصلےٰ میں بیٹھا رہے حتی کہ اشراق کے نفل پڑھ لے صرف خیر ہی بولے ۱∞؎تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جہاں فجر کے فرض پڑھے مسجد میں یا گھر تو بعد فرض مصلےٰ پر ہی بیٹھا رہے خواہ خاموش بیٹھے یا تلاوت و ذکر کرے۔۲؎یعنی اس کے گناہ صغیرہ کتنے بھی ہوں اس نماز اشراق پڑھنے اور مصلےٰ پر رہنے کی برکت سے معاف ہوجائیں گے۔شیخ شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں کہ اس نماز سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔جو دل کا نور چاہے وہ اشراق کی پابندی کرے۔(اشعہ)بعض روایات میں ہے کہ اسے حج کامل و مقبول کا ثواب ملتا ہے۔(مرقاۃ)یہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں مگر فضائل اعمال میں ضعیف حدیث مقبول ہے،نیز ضعیف حدیث جب بہت اسنادوں سے روایت ہوجائے تو حسن بن جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1317