Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1313

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَنِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى أَنَّهٗ قَالَ: يَا ابْنَ آدَمَ ارْكَعْ لِيْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ: أَكْفِكَ آخِرَهٗ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي الدرداء وأبي ذر قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " عن الله تبارك وتعالى أنه قال: يا ابن آدم اركع لي أربع ركعات من أول النهار: أكفك آخره ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابودرداء اور ابوذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے رب تعالٰی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رب فرماتا ہے کہ اے انسان تو شروع دن میں میرےلیئے چار رکعتیں پڑھ لے ۱∞؎میں آخر دن تک تیرےلیئے کافی ہوں گا۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎فجر کی یا چاشت کی،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں اسی لیے مؤلف اس کو نوافل کے باب میں لائے یعنی میری رضاکےلیے یہ نماز پڑھ لے۔۲؎یعنی شام تک تیری حاجتیں پوری کروں گا،تیری مصیبتیں دفع کروں گا۔خلاصہ یہ کہ تو اول دن میں اپنا دل میرےلیئے فارغ کردے میں آخر دن تک تیرا دل غموں سے فارغ رکھوں گا۔سُبْحَانَ اللّٰهِ!دل کی فراغت بڑی نعمت ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ جو الله کا ہوجاتا ہے الله اس کا ہوجاتا ہے،یہ حدیث اس کی شرح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1313