Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1315

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ» قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذٰلِكَ يَا نَبِيَّ اللهِ ؟ قَالَ: «النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفَنُهَا وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنْ الطَّرِيقِ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحٰى تُجْزِئُكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن بريدة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «في الإنسان ثلاثمائة وستون مفصلا فعليه أن يتصدق عن كل مفصل منه بصدقة» قالوا: ومن يطيق ذلك يا نبي الله ؟ قال: «النخاعة في المسجد تدفنها والشيء تنحيه عن الطريق فإن لم تجد فركعتا الضحى تجزئك» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ انسان میں تین سو ساٹھ جوڑہیں ۲؎اس پر لازم ہے کہ ہرجوڑ کی طرف سے ایک صدقہ دے لوگوں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ طاقت کس میں ہے۳؎فرمایا مسجد کا تھوک دفن کردو،تکلیف دہ چیز رستے سے ہٹاد و۴؎اگر یہ نہ پاؤ تو چاشت کی دو رکعتیں تمہیں کافی ہیں ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کا نام بریدہ ابن حصیب اسلمی ہے۔حق یہ ہے کہ عین ہجرت کی حالت میں راستہ میں ایمان لائے،بصرہ میں قیام رہا،خراساں کے جہادوں میں شریک رہے،یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں مقام مرو میں۷۲ھ ∞میں وفات پائی۔شیخ فرماتے ہیں کہ مرو میں آپ کی قبرکی زیارت ہوتی ہے برکتیں حاصل کی جاتیں ہیں۔۲؎ان میں سے آدھے جوڑ حرکت کرتے رہتے ہیں،آدھے ساکن رہتے ہیں اگر حرکت والے ساکن ہوجائیں یا ساکن متحرک ہوجائیں تو جسم کا نظام بگڑ جائے،انسان کی زندگی دشوار ہوجائے۔(مرقاۃ)۳؎یعنی روزانہ تین سو ساٹھ صدقے کرنا عوام تو کیا خاص کی طاقت سے باہر ہے لہذا یہ شکریہ قریبًا ناممکن ہے اور رب تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔۴؎یعنی صدقے سے مراد مالی خیرات ہی نہیں بلکہ نفلی نیکیاں مراد ہیں کیونکہ ہر نیکی پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حدیث میںعلیہوجوب یا لزوم کےلیئے نہیں،چونکہ مسجد کی صفائی راستہ کی صفائی سے افضل ہے اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا۔ہرمسلمان کو یہ کام کرنے چاہیں کام معمولی ہیں مگر ان پر ثواب بڑا ہے۔۵؎یہاںضحیٰسے مراد چاشت کے نفل ہیں یعنی دو رکعت پڑھ لینے سے تین سو ساٹھ جوڑوں کا شکریہ ادا ہوجاتا ہے۔اس روشن کلام سے معلوم ہورہا ہے کہ مسجد کی صفائی،راستوں سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا ان نوافل سے افضل ہے کیونکہ دونفل پڑھنا آسان ہیں مگر وہ کام نفس پرگراں ہیں اور اگر کوئی یہ نفل بھی پڑھا کرے اور یہ کام بھی کیا کرے تو زہے نصیب۔امام جعفر فرماتے ہیں کہ الله تعالٰی نے آنکھ میں کھاری پانی رکھا ہے تاکہ آنکھ کی چربی محفوظ رہے پگھل نہ جائے،کان کے پردے میں کڑوا پن رکھا تاکہ کوئی کیڑا اس راستہ سے دماغ میں نہ جائے،ناک کے نتھنوں میں گرمی رکھی تاکہ ہوا صاف ہو کر دماغ میں پہنچے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1315