Main Icon

با ب : چاشت کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1316

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى الضُّحٰى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ الا مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من صلى الضحى ثنتي عشرة ركعة بنى الله قصرا من ذهب في الجنة» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھ لے تو الله اس کےلیئے جنت میں سونے کا محل بنائے گا ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے جسے ہم صرف اس اسناد سے پہنچانتے ہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو بارہ رکعت چاشت پڑھنے کا عادی ہو تو الله تعالٰی اس کے نام جنت میں ایک سونے کا بےنظیر محل کردے گا کیونکہ وہاں مکانات تو پہلے بنے ہوئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جنت کے میدانی علاقہ میں اس کےلیے سونے کا محل بنادے گا کیونکہ جنت میں کچھ علاقہ خالی بھی ہے جس میں باغ و مکانات انسان کے اعمال کے بعد بنائے جاتے ہیں۔۲؎اسی لیئے علماء فرماتے ہیں کہ چاشت کی نماز آٹھ رکعت تک ہے جو حضور صلی الله علیہ وسلم کا عمل شریف ہے،نیز آٹھ کی حدیث بروایت صحیح منقول ہے،بارہ کی روایت غریب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1316