Main Icon

باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5696

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لأَهْلِهَا فِيهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ". قَالَ: "فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

عن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "لما خلق الله الجنة قال لجبريل: اذهب فانظر إليها، فذهب فنظر إليها وإلى ما أعد الله لأهلها فيها، ثم جاء فقال: أي رب! وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها، ثم حفها بالمكاره ثم قال: يا جبريل! اذهب فانظر إليها، قال: فذهب فنظر إليها، ثم جاء فقال: أي رب! وعزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد". قال: "فلما خلق الله النار قال: يا جبريل! اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها فقال: أي رب! وعزتك لا يسمع بها أحد فيدخلها، فحفها بالشهوات، ثم قال: يا جبريل اذهب فانظر إليها، قال: فذهب فنظر إليها فقال: أي رب! وعزتك لقد خشيت أن لا يبقى أحد إلا دخلها". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب اللہ تعالٰی نے جنت پیدا کی تو حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا کہ جاؤ اسے دیکھو وہ گئے اسے اور جو نعمتیں اس میں جنتیوں کے لیے اللہ نے تیار کی ہیں انہیں دیکھا پھر آئے ۱∞؎عرض کیا یا رب تیری عزت کی قسم نہ سنے گا اسے کوئی مگر اس میں داخل ہوگا۲؎پھر رب نے اسے مشقتوں سے گھیر دیا۳؎پھر فرمایا اے جبریل جاؤ اسے دیکھ کر آؤ،فرمایا تو وہ گئے اسے دیکھا۴؎پھر آئے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ جنت میں کوئی داخل نہ ہوسکے گا ۵؎فرمایا پھر جب اللہ نے آگ پیدا کی تو فرمایا اے جبرئیل جاؤ اسے دیکھو، فرمایا وہ گئے اسے دیکھا پھر آئے ۶؎عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم اسے کوئی نہ سنے گا کہ پھر اس میں داخل بھی ہو۷؎رب نے اسے لذتوں سے گھیر دیا ۸؎پھر فرمایا اے جبریل اسے دیکھو فرمایا وہ گئے اسے دیکھا عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہوئے بغیر نہ بچے گا ۹؎(ترمذی،ابوداؤ د،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں آنے جانے سے مراد اپنے جائے رہائش سے جانا آنا یعنی سدرۃ المنتہیٰ سے جنت میں گئے پھر وہاں ہی لوٹ کر آئے۔حضرت جبرئیل کا جنت میں جانا ثواب کے لیے نہ تھا نہ وہ وہاں پھل وغیرہ کھا سکے کہ وہاں کی نعمتیں انسانوں کے لیے ہیں اس لیےلاھلہاارشاد ہوا،فرشتے کھانے پینے سے محفوظ ہیں۔۲؎یعنی دوزخ میں کوئی نہ جائے گا ساری مخلوق جنت میں داخل ہوجاوے گی کیونکہ یہاں کی نعمتیں راحتیں ایسی ہیں کہ کوئی ان کو سن کر ان سے صبر نہیں کرسکتا۔۳؎یعنی جنت میں بہت اعلٰی گلشن ہے جگہ بہارا ہے مگر اس کا راستہ خاردار ہے۔حج،روزے،جہاد،زکوۃ،رات کو جاگنا،تہجد پڑھنا یہ اس کے راستے ہیں۔۴؎اس دنیا کے عرض یہاں کے اعمال و صفات وہاں اس عالم میں شکل و صورت رکھتے ہیں،حضرت جبرئیل علیہ السلام نے یہ تمام چیزیں مشکلتوں کانٹوں کی شکل میں دیکھیں لہذا حدیث واضح ہے۔۵؎یعنی کوئی شخص اپنی طاقت سے جنت میں نہ جاسکے گا جس پر تو فضل و کرم فرمائے اور اسے ان مشقتوں کی برداشت کی توفیق دے وہ ہی انہیں برداشت کرکے جنت میں پہنچ سکے گا،حضرت جبرئیل کی عرض بالکل درست ہے جو آنکھوں سے دیکھے جارہے ہیں۔۶؎دوزخ میں جانے آنے کے وہ ہی معنی جو ابھی عرض کیے گئے کہ اپنی جگہ سدرۃ المنتہیٰ سے گئے وہاں ہی آئے اور وہاں جانا تکلیف کے لیے نہیں سیر کے لیے ہے جیسے کوئی جیل خانہ کی سیرکرنے وہاں جائے تو وہ محض سیر کے لیے گیا ہے وہاں اسے تکلیف نہیں ہوتی۔۷؎یعنی مولٰی یہ جگہ ہمیشہ خالی رہے گی اس میں کوئی نہ آئے گا،ایسی مصیبت کی جگہ کون آئے گا۔۸؎گانے،ناچنے،کھیل تماشے،زنا،چوری وغیرہ نفس امارہ کو مرغوب ہیں یہ ہی دوزخ کے راستے ہیں جو نفس کو بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں۔۹؎اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا کہ مولٰی جسے تو ہی توفیق دے وہ اس راستہ سے بچ سکے گا،اپنی طاقت سے کوئی یہاں سے نہیں بچ سکتا ایک شاعر کہتا ہے۔لولا اعشقہ ساؤا الناس کلھم الجوب یفقہ والاقدام قتال(مرقات)اگر مشقت نہ ہوتی تو سب ہی سردار بن جاتے عظمت بہت مشقت سے ملتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5696