Main Icon

باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5695

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ العزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَيَنْزَوِيْ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ، بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ، وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنُهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. [خ: 4848، م: 2848].
وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ: "حُفَّتِ الجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ" فِي "كِتَاب الرِّقَاقِ".

وعن أنس عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "لا تزال جهنم يلقى فيها وتقول: هل من مزيد؟ حتى يضع رب العزة فيها قدمه فينزوي بعضها إلى بعض فتقول: قط قط، بعزتك وكرمك، ولا يزال في الجنة فضل حتى ينشئ الله لها خلقا فيسكنهم فضل الجنة". متفق عليه. [خ: 4848، م: 2848].
وذكر حديث أنس: "حفت الجنة بالمكاره" في "كتاب الرقاق".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا دوزخ میں ڈالا جاتا رہے گا ۱∞؎اور وہ کہتی رہے گی کیا اور زیادتی بھی ہے۲؎حتی کہ اللہ تعالٰی اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تب بعض بعض کی طرف سمٹ جاوے گا کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس۳؎اور جنت میں بچی ہوئی جگہ رہے گی حتی کہ اللہ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا جنہیں جنت کے بچے ہوئے حصے میں رکھے گا ۴؎(مسلم،بخاری)اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ جنت مشقتوں سے گھیر دی گئی،کتاب الرقاقمیں بیان کردی گئی۔

شرح حدیث

۱∞؎اس میں جنات،انسان،چاند،سورج،اینٹ پتھر وغیرہ ڈالے جاتے رہیں گے مگر وہ بھرے گی نہیں۔۲؎بہ زبان قال کہتی رہے گی نہ کہ بہ زبان حال،ہر چیز میں زبان فہم وغیرہ سب کچھ ہے۔۳؎یعنی اب میں بالکل بھر گئی مجھ میں کسی چیز کی گنجائش نہیں نہ اب ہے نہ آئندہ ہوگی اب تجھ سے زیادتی کا مطالبہ نہیں کروں گی۔۴؎ابھی عرض کیا گیا کہ جنت بھرنے کے لیے ایک مخلوق پیدا کی جاوے گی مگر دوزخ بھرنے کے لیے کوئی مخلوق پیدا نہ کی جاوے گی کیونکہ بغیر عمل جنت مل سکتی ہے بغیر گناہ دوزخ میں نہیں ڈالا جاسکتا،یہ مخلوق انسان ہی ہوگی مگر حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے نہ ہوگی اور اس مخلوق کو جنت جزا یا ثواب کے لیے نہ ملے گی محض رب تعالٰی کے فضل سے عطا ہوگی۔اس مخلوق کو حوریں عطا نہ ہوں گی پھل فروٹ اور دوسری نعمتیں دی جاویں گی۔شرعی معمہ: وہ کون سے انسان ہیں جو آدم علیہ السلام کی اولاد نہیں؟
جواب: وہ یہ ہی مخلوق ہےجو جنت پر کرنے کے لیے پیدا کی جاوے گی کہ یہ انسان تو ہوگی مگر اولاد آدم علیہ السلام نہیں جیسے،حضرت حواء ا نسان ہے مگر حضرت آدم کی اولاد نہیں،نیز خود آدم علیہ السلام انسان ہیں مگر اولاد آدم نہیں،مرقات نے فرمایا کہ جنت عمل پر موقوف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5695