Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5144

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبةَ فِي قَوْلِهٖ تَعَالٰى:(عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذا اهْتَدَيْتُمْ) فَقَالَ: أَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " بَلِ ائْتَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتّٰى إِذَا رأيتَ شُحّاً مُطاعاً وَهَوًى مُتَّبَعاً وَدُنْيا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهٖ وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ وَرَاءَكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ فَمَنْ صَبَرَ فِيهِنَّ قَبَضَ عَلَى الجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي ثعلبة في قوله تعالى:(عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم) فقال: أما والله لقد سألت عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " بل ائتمروا بالمعروف وتناهوا عن المنكر حتى إذا رأيت شحا مطاعا وهوى متبعا ودنيا مؤثرة وإعجاب كل ذي رأي برأيه ورأيت أمرا لا بد لك منه فعليك نفسك ودع أمر العوام فإن وراءكم أيام الصبر فمن صبر فيهن قبض على الجمر للعامل فيهن أجر خمسين منهم؟ قال: «أجر خمسين منكم» . رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎نے فرمایا ارشاد باری تعالٰی تم پر اپنی جانوں کو بچانا لازم ہے گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا جب کہ تم ہدایت پر ہو کے متعلق فرمایا خدا کی قسم میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو فرمایا تم نیکی کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہو یہاں تک کہ جب دیکھو کہ بخل کی تابعداری کی جارہی ہے خواہشات کی پیروی ہو رہی ہے دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے ہر ایک اپنی رائے پر نازاں ہو۲؎اور ایسا معاملہ دیکھو کہ چارہ کار کوئی نہ ہو تو تم پر خودکو بچانا لازم ہے۳؎اور عوام کو چھوڑ دو کیونکہ پیچھے صبر کے دن ہیں جس نے ان دنوں میں صبر کیا تو گویا چنگاری پکڑی ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر ثواب ہے جو اسی طرح عمل کرتے ہوں،عرض کی گئی کہ یارسول اللہ ان کے پچاس جتنا ؟ فرمایا کہ تمہارے پچاس آدمیوں جتنا ثواب ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابو ثعلبہ جرھم بن ناشب خشنی رضی اللہ عنہ اپنی کنیت ابو ثعلبہ کے ساتھ زیادہ مشہور ہیں،بیعت رضوان کے موقع پر آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو آپ کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ لوگ بھی اسلام لے آئے،حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ شام تشریف لے گئے اور ۷۵ھ؁ ∞میں وہی آپ کا انتقال ہوا۔
۲
؎ائتمرواباب افتعال سے جمع مذکر حاضر امر کا صیغہ ہے،تناھواباب تفاعل سے جمع مذکر حاضر امر کا صیغہ ہے۔مطاعًاباب افعال سے اسم مفعول کا صیغہ،متبعاباب افتعال سے اسم مفعول کا صیغہ ہے،مؤثرۃتفعیل سے اسم مفعول کا صیغہ۔اعجابکا مطلب اپنی رائے پر اترانا اور تکبر کرنا ہے۔
۳
؎اس حدیث شریف میں ان مشکل حالات کا ذکر ہے جن میں آدمی کسی سے نیکی کی بات سننا پسند نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کے روکنے سے برائی سے رکے گا کیونکہ لالچ،خواہشات نفسانیہ اور خود پسندی جیسی صفات ذمیمہ نے اسے اندھا اور بہرہ کردیا ہوگا،ان حالات میں اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کی مجلس میں جانے کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے رنگ میں رنگا جاؤں گا تو اس وقت اپنے ایمان کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے،چونکہ وہ لوگ کوئی بات سننے کو ہی تیار نہیں لہذا اب امر بالمعروف سے پہلو تہی قابل مؤاخذہ نہیں ہوگی،یہ وہ حالات ہوں گے کہ اس ماحول میں عمل کرنے والے کو پچاس عاملین کے برابر ثواب ملے گا اور وہ بھی عام لوگ نہیں بلکہ صحابہ کرام میں سے پچاس مراد ہیں۔
۴
؎اس حدیث سے بعض لوگوں نے استدلال کیا کہ امت کے آخری دور کے لوگوں کو صحابہ کرام پر جزوی فضیلت حاصل ہے لیکن جمہور علماء نے اس کا سخت رد کیا اور فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو شرف صحابیت حاصل ہے اس کا مقابلہ کوئی فضیلت نہیں کرسکتی اور دوسرے لوگ اس اعزاز سے محروم ہیں۔قوت القلوب میں لکھا ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال پر انوار پر ایک نظر پڑنے سے جو پردے کھلتے ہیں اور ان کا کام بنتا ہے وہ دوسروں کی سالہا سال کی محنت سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔(اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5144