Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5151

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهٗ تُصِيبُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ مِنْ سُلْطَانِهِمْ شَدَائِدُ لَا يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا رَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَجَاهَدَ عَلَيْهِ بِلِسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَقَلْبِهٖ فَذٰلِكَ الَّذِي سَبَقَتْ لَهُ السَّوَابِقُ وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَصَدَّقَ بِهٖ وَرَجُلٌ عَرَفَ دِينَ اللّٰهِ فَسَكَتَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَأٰى مَنْ يَعْمَلُ الْخَيْرَ أَحَبَّهٗ عَلَيْهِ وَإِنْ رَأٰى مَنْ يَعْمَلُ بِبَاطِلٍ أَبْغَضَهٗ عَلَيْهِ فَذٰلِكَ يَنْجُو عَلٰى إِبْطَانِهٖ كلِّهٖ »

عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنه تصيب أمتي في آخر الزمان من سلطانهم شدائد لا ينجو منه إلا رجل عرف دين الله فجاهد عليه بلسانه ويده وقلبه فذلك الذي سبقت له السوابق ورجل عرف دين الله فصدق به ورجل عرف دين الله فسكت عليه فإن رأى من يعمل الخير أحبه عليه وإن رأى من يعمل بباطل أبغضه عليه فذلك ينجو على إبطانه كله »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری زمانہ میں میری امت کو اپنے حکمرانوں سے سخت تکلیفیں ۲؎پہنچیں گی ان سے نجات نہیں پائے گا مگر وہ شخص جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس پر اپنی زبان،ہاتھ اور دل کے ساتھ جہاد کیا یہ وہ شخص ہے جو پوری طرح سبقت لے گیا۳؎دوسرا وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس کی تصدیق کی،تیسرا وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اس پر خاموش رہا اگر کسی کو نیکی کرتے دیکھا تو اس سے محبت کرنے لگا اور اگر کسی کو غلط کام کرتے دیکھا تو اس سے ناخوش رہا یہ سب اپنی اندرونی حالت کے باعث نجات پاجائیں گے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ جلیل القدر صحابی اور خلفاء راشدین میں سے ہیں،آپ کا اسلام قبول کرنا ایک تاریخی واقعہ ہے،آپ کو بارگاہ خداوندی سے مانگا گیا تھا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ایمان کے لیے دعا کی اور جب آپ ایمان لائے تو مسلمان ببانگ دھل اسلام کا اعلان کرتے اور نماز پڑھتے،آپ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور مسلمانوں کی ماں تھیں،آپ کا نظامِ حکومت اور عدل ضرب المثل ہے،آپ پر ۲۸ ذو الحج بدھ کی صبح نماز کے وقت ایک بدبخت نے قاتلانہ حملہ کیا اور اتوار کے دن آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا گیا یہ واقعہ ۲۳ ہجر ی کا ہے اور اس وقت آپ کی عمر۶۳سال تھی۔شدائدشدتکی جمع ہے سختیاں،مصائب۔
۳
؎السوابقسابقۃکی جمع ہے،سبقت کے معنی آگے بڑھنا۔
۴
؎رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے دور کی خبر دی کہ جب حکمران دنیوی لالچ اور خواہشات کا شکار ہوکر اپنی رعایا پر ظلم و زیادتی کریں گے تو اس وقت تین قسم کے لوگ ہوں گے:ایک وہ جو سب سے آگے بڑھنے والے سبقت لے جانے والے جو اپنی زبان اور ہاتھ سے ان ظالموں کے خلاف جہاد کریں گے۔دوسرے وہ جن کو دین کی پہچان حاصل ہوگی اور وہ اس کی تصدیق کریں گے اور دین کا اظہار کریں گے لیکن ہاتھ سے نہیں روک سکیں گے۔جب کہ تیسرے قسم کے لوگ دین کی پہچان رکھتے ہوں گے اور زبان سے خاموش رہیں گے،اچھی بات دیکھ کر پسندکریں گے اور برائی اور باطل کے مرتکبین کو دیکھ کر ناپسند کریں گے تو یہ تین قسم کے لوگ نجات پانے والے ہوں گے جب کہ وہ لوگ جو اس برائی کو دورکرنا تو درکنار دل سے بھی برا نہیں جانیں گے وہ گویا ان ظالموں کے ساتھ ظلم میں شریک ہوں گے اوریوں وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5151