Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5149

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قُلْتُ: مَنْ هٰؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ: هٰؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبَرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ رَوَاهُ في "شَرْحِ السُّنَّةِ"، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ " وَفِي رِوَايَتِهٖ قَالَ: «خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ، وَيَقْرَؤُوْنَ كِتَابَ اللّٰهِ وَلَا يَعْمَلُونَ »

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار قلت: من هؤلاء يا جبريل ؟ قال: هؤلاء خطباء أمتك يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم رواه في "شرح السنة"، والبيهقي في "شعب الإيمان " وفي روايته قال: «خطباء من أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون، ويقرؤون كتاب الله ولا يعملون »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معراج کی رات میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ انکے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟کہا کہ یہ آپ کی امت کے واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں لیکن اپنی جانوں کو بھلا دیتے ہیں۲؎روایت کیا اسے شرح السنہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں،دوسری روایت میں کہا آپ کی امت کے خطیب جو دوسروں سے کہتے ہیں لیکن خود نہیں کرتے اور اللہ کی کتاب کو پڑھتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے آپ کی کنیت ابو حمزہ خزرجی تھی،آپ کی والدہ کا نام سلیم بنت ملحان تھا،رسول اکرم صلی اعلیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر دس سال تھی،خلافت فاروقی میں آپ بصرہ منتقل ہوگئے وہاں آپ لوگوں کو فقہ کی تعلیم دیتے رہے،آپ نے ۹۱ھ؁ ∞ میں ایک سو تین سال یا ننانوے سال کی عمر میں وفات پائی۔اور آپ بصرہ میں انتقال کرنے والے آخری صحابی تھے،مقاریض مقراض کی جمع(اسم آلہ)قینچیاں ۔
۲
؎شبِ معراج رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف لوگ مختلف سزاؤں میں مبتلا دکھائے گئے تاکہ آپ اپنی امت کو آگاہ فرمائیں کہ فلاں فلاں جرم کی فلاں فلاں سزا میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی اور یوں لوگ اجتناب کی راہ اختیار کریں گے، چونکہ واعظین اور خطباء اپنی زبانوں سے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں اس لیے خطباء کی زبانیں آگ کی قینچیوں سے کٹتی ہوئی دکھائی گئیں اور واضح کیا گیا کہ دوسرے کو تبلیغ کرکے خود عمل نہ کرنے والے سزا کے مستحق ہیں اور یہ زبانیں اس قابل ہیں کہ ان کو یہ سزا دی جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5149