Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5154

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ تُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهٗ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهٗ إِلَّا لُزُومًا رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"والذي نفس محمد بيده إن المعروف والمنكر خليقتان تنصبان للناس يوم القيامة فأما المعروف فيبشر أصحابه ويوعدهم الخير وأما المنكر فيقول: إليكم إليكم وما يستطيعون له إلا لزوما رواه أحمد والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے نیکی اور بدی دونوں قیامت کے روز لوگوں کے لیے کھڑی کی جائیں گی نیکی اپنے کرنے والوں کو خوشخبری سنائے گی اور ان سے بھلائی کا وعدہ کرے گی جب کہ برائی کہے گی کہ دور ہوجاؤ اور ان میں طاقت نہیں ہوگی مگر اس کے ساتھ چمٹنے کی،اسے احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی عبداللہ بن قیس ہے،آپ مکہ مکرمہ میں مشرف باسلام ہوئے،وہاں سے حبشہ کی طرف ہجرت کی،پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر میں حاضر ہوئے،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ۲۰ ھ؁ ∞میں آپ کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا،چنانچہ آپ نے اہواز کا علاقہ فتح کیا،حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور خلافت میں آپ کوفہ منتقل ہوئے،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور وہیں ۵۲ھ؁∞ میں وصال فرمایا۔
۲
؎خلیقتان مخلوقتان(دو پیدا کی ہوئی چیزیں)لزوم کسی چیز کا کسی سے چمٹ جانا لازم ہوجانا۔اس حدیث شریف میں ثواب و عقاب کی حقانیت کو واضح کیا گیا کہ نیکی اور برائی دنیا میں ہی ختم نہیں ہوجائے گی بلکہ قیامت کے دن ان کا بدلہ(اچھا یا برا)ملے گا،نیکی جس طرح دنیا میں قلبی سرور کا باعث ہوتی ہے قیامت کے دن بھی خوشی کا باعث بنے گی اور برائی جس طرح دنیا میں دل کی پریشانی کا سبب ہوتی ہے قیامت کے دن بھی پریشانی کا موجب ہوگی اور یہ بھی بتایا گیا کہ برائی کا مرتکب شخص اس قدر ناپسندیدہ ہوگا کہ خودبھی اسے اپنے آپ سے دور کرے گی لیکن وہ دور نہیں ہوسکے گا۔اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انسانی اعمال بھی اللہ تعالٰی کی مخلوق ہیں بندہ صرف کسب کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5154