Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5147

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَوْلًى لَنَا أَنَّهٗ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتّٰى يَرَوُا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَهُمْ قَادِرُونَ عَلٰى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوا فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ عَذَّبَ اللّٰهُ العَامَّةَ والخَاصَّةَ» . رَوَاهُ فِي « شَرْحِ السُّنَّةِ »

وعن عدي بن عدي الكندي قال: حدثنا مولى لنا أنه سمع جدي يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الله تعالى لا يعذب العامة بعمل الخاصة حتى يروا المنكر بين ظهرانيهم وهم قادرون على أن ينكروه فلا ينكروا فإذا فعلوا ذلك عذب الله العامة والخاصة» . رواه في « شرح السنة »

حدیث ترجمہ

عدی ابن عدی الکندی ۱∞؎کا بیان ہے کہ ہمارے مولٰی نے ہم سے حدیث بیان کی کہ اس نے میرے جد امجد سے سنا فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالٰی عام لوگوں کو خاص لوگوں کے عمل کے باعث عذاب نہیں دیتا ۲؎یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان برے کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں اگر انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالٰی عام اور خاص سب کو عذاب دے گا۳؎(شرح السنہ)

شرح حدیث

۱∞؎عدی ابن عدی الکندی(الکندی کاف کے کسرہ سے ہے)ایک یمنی قبیلہ کندہ کی طرف منسوب ہیں،آپ تابعی فقیہ ہیں،آپ کے والد عدی بن عمیرہ اور چچا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہما دونوں صحابی ہیں،آپ نے ان دونوں سے احادیث روایت کی ہیں اور آپ سے حضرت ایوب اور عطا خراسانی وغیرھما نے احادیث روایت کی ہیں۔
۲
؎العامۃعام لوگ،الخاصۃقوم کے بعض افراد،بین ظہر ینھمان کے سامنے۔اس حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ جب کسی قوم میں سے کچھ افراد برائی کا ارتکاب کریں تو اس کا عذاب صرف انہی کو ہوگا قوم کے دوسرے افراد کو نہیں کیونکہ ارشاد خداوندی ہے"وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
۳
؎البتہ جب ان کے سامنے برائی ہو رہی ہو اور وہ روکنے پر قادر ہونے کے باوجود ان کو نہ روکیں تو اب سب کو عذاب ہوگا اور یہ ارشاد خداوندی کے خلاف نہیں ہے کیونکہ گناہ کرنے والوں کو ان کے عمل کی سزا ملے گی اور دوسرے اس لیے سزا کے مستحق ہوئے کہ انہوں نے برائی کو روکنے سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کرکے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5147