Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5139

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقٰى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهٗ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ: أَيْ فُلَانُ مَا شَأْنُكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟قَالَ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أسامة بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يجاء بالرجل يوم القيامة فيلقى في النار فتندلق أقتابه في النار فيطحن فيها كطحن الحمار برحاه فيجتمع أهل النار عليه فيقولون: أي فلان ما شأنك؟ أليس كنت تأمرنا بالمعروف وتنهانا عن المنكر؟قال: كنت آمركم بالمعروف ولا آتيه وأنهاكم عن المنكر وآتيه ". (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا آگ میں اس کی انتڑیاں نکل پڑیں گی۲؎وہ پھرے گا جیسے گدھا چکی کے گرد پھرتا ہے جہنمی اس کے پاس جمع ہوکر کہیں گے اے فلاں کیا بات ہے جب کہ آپ تو ہمیں نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے ؟ کہے گا میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا تمہیں برائی سے روکتا تھا لیکن خود نہیں رکتا تھا۳؎(متفق علیہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب صحابی،حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں،ان کی والدہ ام ایمن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں ہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت حضرت اسامہ بن زید کی عمر بیس سال تھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ کا وصال ہوا،یہ بھی کہا گیا کہ ۵۴ھ؁∞ میں آپ نے وصال فرمایا۔ابن عبدالبر کہتے ہیں میرے نزدیک یہ زیادہ صحیح ہے آپ سے ایک جماعت نے روایت کی۔
۲
؎تندلق اندلاقسے بنا ہے اس کا معنی کسی چیز کا تیزی سے اپنی جگہ سے نکلنا،اقتاب قتبکی جمع ہے،طحن یطحنبابفتحسے پیسنا۔
۳
؎اس حدیث شریف میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والا خود بھی باعمل ہو اور اگر وہ خود اچھے اعمال نہیں کرتا اور برائی سے اجتناب نہیں کرتا تو سزا کا مستحق ہوگا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ باعمل آدمی کی تبلیغ سے انکار کی گنجائش نہیں ہوتی اور یوں اس کا اپنا عمل دوسروں کے عمل کے لیے ترغیب و تحریص کا کام دیتا ہے لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اگر کوتاہی یا لاپرواہی کی وجہ سے مبلغ اعمال صالحہ سے کنارہ کشی رکھتا ہے یا نفس و شیطان کے دھوکے میں آکر برائی کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہیے بلکہ ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5139