Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5141

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَاكَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن العرس بن عميرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:«إذا عملت الخطيئة في الأرض من شهدها فكرههاكان كمن غاب عنها ومن غاب عنها فرضيها كان كمن شهدها» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱∞؎سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب زمین میں گناہ کیا جاوے تو جو وہاں موجود ہو اور وہ اسے ناپسند کرے تو ایسا ہے جیسے وہاں موجود نہیں اور جو موجود نہیں لیکن اس سے راضی ہے تو وہ ایسا ہے جیسے موجود ہو۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عرس بن عمیرہ،عرس کی عین پر ضمہ اور راء ساکن ہے جب کہ عمیرہ کی عین مفتوح اور میم مکسور ہے۔یہ حضرت عدی بن عمیرہ کے بھائی ہیں،صحابی ہیں،ان سے ان کے بھتیجے عدی بن عمیرہ اور زید بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہم نے احادیث روایت کی ہیں۔
۲
؎اس حدیث شریف میں برائی کو دل سے برا جاننے کی اہمیت کا ذکر ہوا کہ اگرچہ ایک شخص برائی کے ارتکاب کے وقت وہاں موجود نہ بھی ہو لیکن اس پر راضی ہو تو گویا وہ موجود تھا اور جو وہاں موجود ہو لیکن اس حرکت کو ناپسند کرے گویا وہ وہاں موجود ہی نہیں۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں گویا حقیقی موجودگی اور عدم موجودگی دل کی ہوتی ہے جسم کی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5141