- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 5145
باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5145
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلٰى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهٗ حَفِظَهٗ مَنْ حَفِظَهٗ وَنَسِيَهٗ مَنْ نَسِيَهٗ وَكَانَ فِيمَا قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللّٰهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ» وَذَكَرَ: «إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهٖ فِي الدُّنْيَا وَلَا غَدْرَ أَكْبَرُ مِنْ غَدْرِ أَمِيرِ الْعَامَّةِ يُغْرَزُ لِوَاؤُهٗ عِنْدَ اسْتِهٖ » . قَالَ: «وَلَا يَمْنَعْنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهٗ» وَفِي رِوَايَةٍ:«إِنْ رَأٰى مُنْكَرًا أَنْ يُغَيِّرَهُ» فَبَكٰى أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ:قَدْ رَأَيْنَاهُ فَمَنَعَتْنَا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ نَتَكَلَّمَ فِيهِ.ثُمَّ قَالَ:«أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلٰى طَبَقَاتٍ شَتّٰى فَمِنْهُمْ مَن يُولَدُ مُؤمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا» قَالَ: وَذَكَرَ الْغَضَبَ«فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَخِيَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ» . قَالَ: «اتَّقُوا الْغَضَبَ فَإِنَّهٗ جَمْرَةٌ عَلٰى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلٰى انْتِفَاخِ أَوْدَاجِهٖ ؟ وَحُمْرَةِ عَيْنَيْهِ؟ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذٰلِكَ فَلْيَضْطَجِعْ وَلْيَتَلَبَّدْ بِالْأَرْضِ» قَالَ: وَذَكَرَ الدَّيْنَ فَقَالَ: «مِنْكُمْ مَنْ يَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ وَإِذَا كَانَ لَهٗ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَمِنْهُم مَنْ يَكُونُ سَيِّئَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَخِيَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَحْسَنَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَسَاءَ الْقَضَاءَ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ» . حَتّٰى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلٰى رؤوسِ النَّخْلِ وَأَطْرَافِ الْحِيطَانِ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهٗ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضٰى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِيمَا مَضٰى مِنْهُ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن أبي سعيد الخدري قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا بعد العصر فلم يدع شيئا يكون إلى قيام الساعة إلا ذكره حفظه من حفظه ونسيه من نسيه وكان فيما قال: «إن الدنيا حلوة خضرة وإن الله مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون ألا فاتقوا الدنيا واتقوا النساء» وذكر: «إن لكل غادر لواء يوم القيامة بقدر غدرته في الدنيا ولا غدر أكبر من غدر أمير العامة يغرز لواؤه عند استه » . قال: «ولا يمنعن أحدا منكم هيبة الناس أن يقول بحق إذا علمه» وفي رواية:«إن رأى منكرا أن يغيره» فبكى أبو سعيد وقال:قد رأيناه فمنعتنا هيبة الناس أن نتكلم فيه.ثم قال:«ألا إن بني آدم خلقوا على طبقات شتى فمنهم من يولد مؤمنا ويحيا مؤمنا ويموت مؤمنا ومنهم من يولد كافرا ويحيا كافرا ويموت كافرا ومنهم من يولد مؤمنا ويحيا مؤمنا ويموت كافرا ومنهم من يولد كافرا ويحيا كافرا ويموت مؤمنا» قال: وذكر الغضب«فمنهم من يكون سريع الغضب سريع الفيء فإحداهما بالأخرى ومنهم من يكون بطيء الغضب بطيء الفيء فإحداهما بالأخرى وخياركم من يكون بطيء الغضب سريع الفيء وشراركم من يكون سريع الغضب بطيء الفيء» . قال: «اتقوا الغضب فإنه جمرة على قلب ابن آدم ألا ترون إلى انتفاخ أوداجه ؟ وحمرة عينيه؟ فمن أحس بشيء من ذلك فليضطجع وليتلبد بالأرض» قال: وذكر الدين فقال: «منكم من يكون حسن القضاء وإذا كان له أفحش في الطلب فإحداهما بالأخرى ومنهم من يكون سيئ القضاء وإن كان له أجمل في الطلب فإحداهما بالأخرى وخياركم من إذا كان عليه الدين أحسن القضاء وإن كان له أجمل في الطلب وشراركم من إذا كان عليه الدين أساء القضاء وإن كان له أفحش في الطلب» . حتى إذا كانت الشمس على رؤوس النخل وأطراف الحيطان فقال: «أما إنه لم يبق من الدنيا فيما مضى منها إلا كما بقي من يومكم هذا فيما مضى منه». رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصرکے بعد ہمارے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے پس آپ نے قیامت تک ہونے والی کوئی خبر نہ چھوڑی ۱∞؎مگر اس کا ذکر کردیا یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا،اسی میں آپ نے فرمایا بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالی اس کی تم کو خلافت دینے والاہے پس دیکھتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ خبردار! دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو اور ذکر فرمایا کہ قیامت کے روز ہر دغا باز۲؎کے لیے اس کی دنیاوی دغا بازی کے مطابق جھنڈا ہوگا اور حاکم کی عام دغا بازی سے بڑھ کر کوئی دغا بازی نہیں اس کا جھنڈا اس کے پاخانے کی جگہ کے پاس گاڑا جائے گا،فرمایا کہ تم میں سے کسی کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے جب کہ اسے معلوم ہو،ایک روایت میں ہے کہ اگر برا کام دیکھے تو اسے روکے،پس حضرت ابو سعید رو پڑے اور فرمایا ہم اسے دیکھتے ہیں اور لوگوں کی ہیبت ہمیں اس کے متعلق بولنے سے روکتی ہے پھر فرمایاکہ آدمی مختلف درجوں کے پیدا کیے گئے ہیں بعض وہ ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہی زندہ رہتے ہیں اور مؤمن مرتے ہیں اور ان میں سے بعض کافر پیدا ہوتے ہیں کافر زندہ رہتے ہیں اور کافر ہی مرتے ہیں اور ان میں سے بعض مؤمن پیدا ہوتے مؤمن زندہ رہتے اور کافر مرتے ہیں اور ان میں سے بعض کافر پیدا ہوتے کافر زندہ رہتے اور مؤمن مرتے ہیں،راوی کا بیان ہے کہ آپ نے غصے کا ذکر فرمایا کہ ان میں سے بعض کو جلد غصہ آتا اور جلد چلا جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے ان میں سے بعض کو دیر سے غصہ آتا اور دیر سے جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے تم میں سے بہتر وہ ہیں جن کو دیر سے غصہ آئے اور جلد چلا جائے اور تم میں سے برے وہ ہیں جن کو جلدی غصہ آئے۳؎اور دیر سے جائے۴؎فرمایا کہ غصے سے بچو کیونکہ یہ آدمی کے دل پر چنگاری ہے کیا تم اس کی رگوں کے پھولنے ۵؎اور آنکھوں کے سرخ ہونے کو نہیں دیکھتے جس کو غصہ محسوس ہو تو چاہیے کہ لیٹ جائے اور زمین سے چمٹ جائے،راوی کا بیان ہے کہ آپ نے قرض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے کوئی اچھی طرح ادا کردیتا ہے لیکن جب اس کا کسی پر ہو تولینے میں سختی کرتا ہے دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں ان میں سے کوئی ادا کرنے میں برا ہے لیکن اگر اس کا کسی پر ہو تو طلب میں اچھا ہے یہ ایک عادت دوسری کے ساتھ ہے اور تم میں سے بہتر وہ ہے کہ جب اس پر کسی کا قرض ہوتو اچھی طرح ادا کرے اور اس کا کسی پر ہو تو اچھی طرح طلب کرے اور تم میں سے برا وہ ہے کہ جب اس پر کسی کا قرض ہو تو بری طرح ادا کرے اور اس کا کسی پر ہو تو سختی سے طلب کرے خواہ سورج درختوں کی چوٹیوں اور دیواروں کے کناروں پر ہو۶؎نیز فرمایا کہ دنیا کی زندگی میں سے گزرے ہوئے وقت کے مقابلے میں نہیں باقی رہا مگر اتنا حصہ جتنا آج گزرے ہوئے وقت سے باقی رہ گیا ہے۔(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎لم یدع ودع یدعسے نفی جحد بلم کا صیغہ ہے،مثال واوی بابفتحیفتحہےمستخلفباب استفعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے باب افعال کے معنی میں ہے۔
۲؎غادر غدرسے اسم فاعل ہے دھوکہ باز کو کہتے ہیں است سرین کو کہتے ہیں۔
۳؎سریع الفیجس کا غصہ جلدی اتر جائے۔
۴؎بطئی الفیجس کا غصہ دیر سے اترے،بطوء تاخیر کو کہتے ہیں۔
۵؎اوداجودجکی جمع ہے رگیں انتفاخ پھولنا۔
۶؎حیطان حائطہکی جمع دیواریں باغ کو بھی حائط کہتے ہیں اس طویل حدیث میں کئی مسائل بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیل یوں ہے۔(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں قیامت تک پیش آنے والے مسائل سے متعلق مکمل احکام ذکر فرمائے جو آپ کا معجزہ ہے ورنہ اتنے مختصر وقت میں اور پھر مستقبل کے واقعات کا بیان ممکن نہیں۔(۲)دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ہرشخص اسے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک آزمائش ہوتی ہے کہ آیا دولت و اقتدار حاصل ہونے کے بعد انسان احکام خداوندی سے روگردانی کرتا ہے یا ان کی تعمیل لہذا اس آزمائش میں ناکامی کے خوف سے کوشش کی جائے کہ دنیا اور عورتوں کے فتنوں سے دور رہیں۔(۳)دنیا میں جوبھی شخص دھوکہ بازی اور خیانت کرے گا قیامت کے دن سب کے سامنے ذلیل و رسوا ہوگا،حکمرانوں اور بڑے بڑے افسروں کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔(۴)کلمہ حق کہنے میں کسی کا خوف آڑے نہیں آنا چاہیے ورنہ معاشرتی نظام تباہ و برباد ہوجائے گا۔(۵)خاتمے کے بارے میں فکر مند رہنا چاہیے اور ہر وقت حسن خاتمہ کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔(۶)دنیا میں وہی انسان سب سے اچھا ہے جس کو غصہ دیر سے آئے اور جلد چلا جائے اور وہ شخص سب سے برا ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے جائے۔(۷)غصے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ایسی آگ ہے جو سب کچھ جلاکر راکھ کردے گی۔(۸)قرض کے سلسلے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سب سے اچھا قرار دیا جو قرض دے تو اچھی طرح واپس مانگے اور قرض لے تو اچھے طریقے سے ادا کرے،جب کہ وہ شخص جو طلب میں بدکلامی کا مظاہرہ کرے اور کسی کا قرض دینا ہوتو اچھے طریقے سے ادا نہ کرے وہ سب سے برا آدمی ہے۔
(۹)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا جس طرح اب سورج کے غروب ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی ہے اسی طرح قیامت بھی بالکل قریب ہے لہذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5145