Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5145

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلٰى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهٗ حَفِظَهٗ مَنْ حَفِظَهٗ وَنَسِيَهٗ مَنْ نَسِيَهٗ وَكَانَ فِيمَا قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللّٰهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ» وَذَكَرَ: «إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهٖ فِي الدُّنْيَا وَلَا غَدْرَ أَكْبَرُ مِنْ غَدْرِ أَمِيرِ الْعَامَّةِ يُغْرَزُ لِوَاؤُهٗ عِنْدَ اسْتِهٖ » . قَالَ: «وَلَا يَمْنَعْنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهٗ» وَفِي رِوَايَةٍ:«إِنْ رَأٰى مُنْكَرًا أَنْ يُغَيِّرَهُ» فَبَكٰى أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ:قَدْ رَأَيْنَاهُ فَمَنَعَتْنَا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ نَتَكَلَّمَ فِيهِ.ثُمَّ قَالَ:«أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلٰى طَبَقَاتٍ شَتّٰى فَمِنْهُمْ مَن يُولَدُ مُؤمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا» قَالَ: وَذَكَرَ الْغَضَبَ«فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَخِيَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ» . قَالَ: «اتَّقُوا الْغَضَبَ فَإِنَّهٗ جَمْرَةٌ عَلٰى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلٰى انْتِفَاخِ أَوْدَاجِهٖ ؟ وَحُمْرَةِ عَيْنَيْهِ؟ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذٰلِكَ فَلْيَضْطَجِعْ وَلْيَتَلَبَّدْ بِالْأَرْضِ» قَالَ: وَذَكَرَ الدَّيْنَ فَقَالَ: «مِنْكُمْ مَنْ يَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ وَإِذَا كَانَ لَهٗ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَمِنْهُم مَنْ يَكُونُ سَيِّئَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ فَإِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرٰى وَخِيَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَحْسَنَ الْقَضَاءِ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَجْمَلَ فِي الطَّلَبِ وَشِرَارُكُمْ مَنْ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَسَاءَ الْقَضَاءَ وَإِنْ كَانَ لَهٗ أَفْحَشَ فِي الطَّلَبِ» . حَتّٰى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلٰى رؤوسِ النَّخْلِ وَأَطْرَافِ الْحِيطَانِ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهٗ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضٰى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِيمَا مَضٰى مِنْهُ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا بعد العصر فلم يدع شيئا يكون إلى قيام الساعة إلا ذكره حفظه من حفظه ونسيه من نسيه وكان فيما قال: «إن الدنيا حلوة خضرة وإن الله مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون ألا فاتقوا الدنيا واتقوا النساء» وذكر: «إن لكل غادر لواء يوم القيامة بقدر غدرته في الدنيا ولا غدر أكبر من غدر أمير العامة يغرز لواؤه عند استه » . قال: «ولا يمنعن أحدا منكم هيبة الناس أن يقول بحق إذا علمه» وفي رواية:«إن رأى منكرا أن يغيره» فبكى أبو سعيد وقال:قد رأيناه فمنعتنا هيبة الناس أن نتكلم فيه.ثم قال:«ألا إن بني آدم خلقوا على طبقات شتى فمنهم من يولد مؤمنا ويحيا مؤمنا ويموت مؤمنا ومنهم من يولد كافرا ويحيا كافرا ويموت كافرا ومنهم من يولد مؤمنا ويحيا مؤمنا ويموت كافرا ومنهم من يولد كافرا ويحيا كافرا ويموت مؤمنا» قال: وذكر الغضب«فمنهم من يكون سريع الغضب سريع الفيء فإحداهما بالأخرى ومنهم من يكون بطيء الغضب بطيء الفيء فإحداهما بالأخرى وخياركم من يكون بطيء الغضب سريع الفيء وشراركم من يكون سريع الغضب بطيء الفيء» . قال: «اتقوا الغضب فإنه جمرة على قلب ابن آدم ألا ترون إلى انتفاخ أوداجه ؟ وحمرة عينيه؟ فمن أحس بشيء من ذلك فليضطجع وليتلبد بالأرض» قال: وذكر الدين فقال: «منكم من يكون حسن القضاء وإذا كان له أفحش في الطلب فإحداهما بالأخرى ومنهم من يكون سيئ القضاء وإن كان له أجمل في الطلب فإحداهما بالأخرى وخياركم من إذا كان عليه الدين أحسن القضاء وإن كان له أجمل في الطلب وشراركم من إذا كان عليه الدين أساء القضاء وإن كان له أفحش في الطلب» . حتى إذا كانت الشمس على رؤوس النخل وأطراف الحيطان فقال: «أما إنه لم يبق من الدنيا فيما مضى منها إلا كما بقي من يومكم هذا فيما مضى منه». رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصرکے بعد ہمارے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے پس آپ نے قیامت تک ہونے والی کوئی خبر نہ چھوڑی ۱∞؎مگر اس کا ذکر کردیا یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا،اسی میں آپ نے فرمایا بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالی اس کی تم کو خلافت دینے والاہے پس دیکھتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ خبردار! دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو اور ذکر فرمایا کہ قیامت کے روز ہر دغا باز۲؎کے لیے اس کی دنیاوی دغا بازی کے مطابق جھنڈا ہوگا اور حاکم کی عام دغا بازی سے بڑھ کر کوئی دغا بازی نہیں اس کا جھنڈا اس کے پاخانے کی جگہ کے پاس گاڑا جائے گا،فرمایا کہ تم میں سے کسی کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے جب کہ اسے معلوم ہو،ایک روایت میں ہے کہ اگر برا کام دیکھے تو اسے روکے،پس حضرت ابو سعید رو پڑے اور فرمایا ہم اسے دیکھتے ہیں اور لوگوں کی ہیبت ہمیں اس کے متعلق بولنے سے روکتی ہے پھر فرمایاکہ آدمی مختلف درجوں کے پیدا کیے گئے ہیں بعض وہ ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہی زندہ رہتے ہیں اور مؤمن مرتے ہیں اور ان میں سے بعض کافر پیدا ہوتے ہیں کافر زندہ رہتے ہیں اور کافر ہی مرتے ہیں اور ان میں سے بعض مؤمن پیدا ہوتے مؤمن زندہ رہتے اور کافر مرتے ہیں اور ان میں سے بعض کافر پیدا ہوتے کافر زندہ رہتے اور مؤمن مرتے ہیں،راوی کا بیان ہے کہ آپ نے غصے کا ذکر فرمایا کہ ان میں سے بعض کو جلد غصہ آتا اور جلد چلا جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے ان میں سے بعض کو دیر سے غصہ آتا اور دیر سے جاتا ہے پس ایک دوسرے کے ساتھ ہے تم میں سے بہتر وہ ہیں جن کو دیر سے غصہ آئے اور جلد چلا جائے اور تم میں سے برے وہ ہیں جن کو جلدی غصہ آئے۳؎اور دیر سے جائے۴؎فرمایا کہ غصے سے بچو کیونکہ یہ آدمی کے دل پر چنگاری ہے کیا تم اس کی رگوں کے پھولنے ۵؎اور آنکھوں کے سرخ ہونے کو نہیں دیکھتے جس کو غصہ محسوس ہو تو چاہیے کہ لیٹ جائے اور زمین سے چمٹ جائے،راوی کا بیان ہے کہ آپ نے قرض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے کوئی اچھی طرح ادا کردیتا ہے لیکن جب اس کا کسی پر ہو تولینے میں سختی کرتا ہے دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں ان میں سے کوئی ادا کرنے میں برا ہے لیکن اگر اس کا کسی پر ہو تو طلب میں اچھا ہے یہ ایک عادت دوسری کے ساتھ ہے اور تم میں سے بہتر وہ ہے کہ جب اس پر کسی کا قرض ہوتو اچھی طرح ادا کرے اور اس کا کسی پر ہو تو اچھی طرح طلب کرے اور تم میں سے برا وہ ہے کہ جب اس پر کسی کا قرض ہو تو بری طرح ادا کرے اور اس کا کسی پر ہو تو سختی سے طلب کرے خواہ سورج درختوں کی چوٹیوں اور دیواروں کے کناروں پر ہو۶؎نیز فرمایا کہ دنیا کی زندگی میں سے گزرے ہوئے وقت کے مقابلے میں نہیں باقی رہا مگر اتنا حصہ جتنا آج گزرے ہوئے وقت سے باقی رہ گیا ہے۔(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎لم یدع ودع یدعسے نفی جحد بلم کا صیغہ ہے،مثال واوی بابفتحیفتحہےمستخلفباب استفعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے باب افعال کے معنی میں ہے۔
۲
؎غادر غدرسے اسم فاعل ہے دھوکہ باز کو کہتے ہیں است سرین کو کہتے ہیں۔
۳
؎سریع الفیجس کا غصہ جلدی اتر جائے۔
۴
؎بطئی الفیجس کا غصہ دیر سے اترے،بطوء تاخیر کو کہتے ہیں۔
۵
؎اوداجودجکی جمع ہے رگیں انتفاخ پھولنا۔
۶
؎حیطان حائطہکی جمع دیواریں باغ کو بھی حائط کہتے ہیں اس طویل حدیث میں کئی مسائل بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیل یوں ہے۔(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں قیامت تک پیش آنے والے مسائل سے متعلق مکمل احکام ذکر فرمائے جو آپ کا معجزہ ہے ورنہ اتنے مختصر وقت میں اور پھر مستقبل کے واقعات کا بیان ممکن نہیں۔(۲)دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ہرشخص اسے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک آزمائش ہوتی ہے کہ آیا دولت و اقتدار حاصل ہونے کے بعد انسان احکام خداوندی سے روگردانی کرتا ہے یا ان کی تعمیل لہذا اس آزمائش میں ناکامی کے خوف سے کوشش کی جائے کہ دنیا اور عورتوں کے فتنوں سے دور رہیں۔(۳)دنیا میں جوبھی شخص دھوکہ بازی اور خیانت کرے گا قیامت کے دن سب کے سامنے ذلیل و رسوا ہوگا،حکمرانوں اور بڑے بڑے افسروں کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔(۴)کلمہ حق کہنے میں کسی کا خوف آڑے نہیں آنا چاہیے ورنہ معاشرتی نظام تباہ و برباد ہوجائے گا۔(۵)خاتمے کے بارے میں فکر مند رہنا چاہیے اور ہر وقت حسن خاتمہ کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔(۶)دنیا میں وہی انسان سب سے اچھا ہے جس کو غصہ دیر سے آئے اور جلد چلا جائے اور وہ شخص سب سے برا ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے جائے۔(۷)غصے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ایسی آگ ہے جو سب کچھ جلاکر راکھ کردے گی۔(۸)قرض کے سلسلے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سب سے اچھا قرار دیا جو قرض دے تو اچھی طرح واپس مانگے اور قرض لے تو اچھے طریقے سے ادا کرے،جب کہ وہ شخص جو طلب میں بدکلامی کا مظاہرہ کرے اور کسی کا قرض دینا ہوتو اچھے طریقے سے ادا نہ کرے وہ سب سے برا آدمی ہے۔
(۹)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا جس طرح اب سورج کے غروب ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی ہے اسی طرح قیامت بھی بالکل قریب ہے لہذا اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5145