Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5138

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " مثلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللّٰهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّ بِالْمَاءِ عَلَى الذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهٖ فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: مَا لَكَ؟ قَالَ: تَأَذَّيْتُمْ بِي وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ. فَإِنْ أَخَذُوا عَلٰى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مثل المدهن في حدود الله والواقع فيها مثل قوم استهموا سفينة فصار بعضهم في أسفلها وصار بعضهم في أعلاها فكان الذي في أسفلها يمر بالماء على الذين في أعلاها فتأذوا به فأخذ فأسا فجعل ينقر أسفل السفينة فأتوه فقالوا: ما لك؟ قال: تأذيتم بي ولا بد لي من الماء. فإن أخذوا على يديه أنجوه ونجوا أنفسهم وإن تركوه أهلكوه وأهلكوا أنفسهم ". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیر (رضی اللہ عنہ) سے ۱∞؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی حدود میں سستی کرنے والوں۲؎اور ان میں گرنے والوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے کشتی میں قرعہ ڈالا پس کچھ لوگ اس کے نچلے حصے میں رہے اور کچھ اوپر والے میں نیچے والے پانی لے کر اوپر والوں کے پاس سے گزرے انہیں اسپر تکلیف دی جاتی تو انہوں نے کلہاڑی لی اور کشتی کا نچلہ حصہ توڑنا شروع کردیا فریق ثانی نے آکر کہا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہا کہ میری وجہ سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے اور مجھے پانی کی ضرورت ہے اگر وہ اس کا ہاتھ پکڑ لیں تو اسے بچالیں گے اور اپنی جانوں کو بھی اوراگر چھوڑ دیں تو اسے ہلاک کردیں گے اور اپنی جانوں کو بھی ہلاک کرلیں گے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابوعبداللہ حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ انصاری ہیں،آپ ہجرت کے بعد انصار میں سب سے پہلے پیدا ہونے والے ہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال نو مہینے تھی،آپ کے والدین بھی صحابی تھے،حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں آپ کوفہ کے والی تھے، ۷۴ھ؁∞ میں آپ کو اہل حمص نے شہید کیا،آپ سے ایک جماعت نے احادیث روایت کیں جن میں آپ کے صاحبزادے محمد اور حضرت امام شعبی(رضی اللہ عنہم) بھی شامل ہیں۔
۲
؎المدھناسم فاعلمداھنتسے بنا ہے جس کا معنی فریب کرنا دھوکہ دینا ہے یہاں سستی کرنا مراد ہے۔حدودحدکی جمع وہ شرعی سزائیں جو مقرر ہیں۔استھموجمع مذکر فعل ماضی باب استفعال قرعہ اندازی کی۔صاریصیرہوجانا،بابضرب یضرب،اجوف یائی۔تاذواانہوں نے اذیت پائی،باب تفعل سے فعل ماضی جمع مذکر کا صیغہ ہے اور مہموز الفا ناقص یائی ہے۔ینقربابنصر ینصرسے مضارع واحد مذکر کا صیغہ ہے سوراخ کرنا توڑنا۔اخذواعلی یدیہکسی کا ہاتھ روکنا۔انجواباب افعال سے انہوں نے بچایا اورنجواثلاثی مزید باب تفعیل ہے جو کہ متعدیاھلكباب افعال کسی کو ہلاک کرنا یا اس کو ہلاکت کا سبب بتانا اورھلك نصر فتح سمعتینوں طرح آتا ہے اور اس کا معنی ہلاک ہوا دونوں ماضی کے صیغے ہیں۔
۳
؎اس حدیث شریف میں ایک مثال کے ذریعہ برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کو واضح کیا گیا اور بتایا گیا کہ اگر یہ سمجھ کر امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کردیا جائے کہ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھائے گا ہمارا کیا نقصان ہے تو یہ سوچ غلط ہے اس لیے کہ اس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور جس طرح کشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جوکشتی میں سوار ہیں اسی طرح برائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں ناسور بن کر پھیلتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5138