Main Icon

باب :نیک باتوں کا حکم دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5146

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم:« لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي البختري عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:« لن يهلك الناس حتى يعذروا من أنفسهم ». رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

ابوالبختری۱∞؎نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ ہلاک نہیں کیے جائیں گے یہاں تک کہ اپنے آپ کو معذور بنائیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابو البختری(باء پر فتحہ اور خاء ساکن)تابعی ہیں اور کوفہ سے تعلق رکھتے ہیں،آپ کا اسم گرامی سعید بن فیروز ہے،آپ نے رؤیت ہلال کے سلسلے میں بھی حدیث روایت کی ہے۔
۲
؎یعذروااعذارسے مضارع معروف جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے گناہوں اور عیبوں کا زیادہ ہونا،اعذارکا معنی عذر کا سبب ہونا اور اس کا ازالہ بھی ہے یعنی جب کسی شخص کے گناہ اور عیب زیادہ ہوجائیں اور اب وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے سزا اور بندوں کی طرف سے نہی عن المنکر کا مستحق ہوجائے اور کوئی بہانہ نہ کرسکے۔اعذارکا معنی صاحب عذربھی ہوسکتا ہے یعنی وہ گناہ کرکے اس کی مختلف فاسد تاویلیں کریں گے عذر پیش نہ کریں گے۔بعض روایات میںیعذرو(یا پر فتح کے ساتھ)بھی آتا ہے گویا وہ اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے اس بات سے معذور ہیں کہ ان کو جھڑکا جائے اور منع کیا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5146