Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5291

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: كَانَ الْمَالُ فِيمَا مَضَى يُكْرَهُ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَهُوَ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ، وَقَالَ: لَوْلَا هَذِهِ الدَّنَانِيرُ لَتَمَنْدَلَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْمُلُوكُ، وَقَالَ: مَنْ كَانَ فِي يَدِهِ مِنْ هَذِهِ شَيْءٌ فَلْيُصْلِحْهُ، فَإِنَّهُ زَمَانٌ إِنِ احْتَاجَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ يَبْذُلُ دِينَهُ، وَقَالَ: الْحَلَالُ لَا يَحْتَمِلُ السَّرَفَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن سفيان الثوري قال: كان المال فيما مضى يكره، فأما اليوم فهو ترس المؤمن، وقال: لولا هذه الدنانير لتمندل بنا هؤلاء الملوك، وقال: من كان في يده من هذه شيء فليصلحه، فإنه زمان إن احتاج كان أول من يبذل دينه، وقال: الحلال لا يحتمل السرف. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سفیان ثوری سے فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانہ میں مال ناپسند تھا ۱؎لیکن آج مال مؤمن کی ڈھال ہے ۲؎اور فرمایا اگر یہ اشرفیاں نہ ہوتیں تو یہ بادشاہ ہم کو رومال بنالیتے ۳؎اور فرمایا کہ جس کے پاس کچھ دولت ہو تو وہ اسے سنبھالے۴؎بڑھائے کیونکہ یہ زمانہ وہ ہے کہ اگر کوئی محتاج ہوجاوے تو پہلی جو چیز خرچ کرتا وہ اس کا دین ہے ۵؎فرمایا کہ حلال مال میں فضول خرچی کی گنجائش نہیں ۶؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی زمانہ رسالت میں زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش کرنا ناپسند تھا اس وقت لوگوں پر حال کا غلبہ تھا۔مال کے لیے بہت دوڑ دھوپ اس میں نقصان دہ ہوتی تھی،اس کا یہ مطلب نہیں کہ زیادہ مال حرام یا مکروہ یا ناپسند تھا،مال سے زکوۃ،حج،قربانی،جہاد ہوتے ہیں۔اچھی چیزوں کا ذریعہ اچھا ہوتا ہے گویا اس زمانہ میں لوگوں کو زہد و قناعت مرغوب تھی۔
۲
؎یعنی اب اس زمانہ میں مال حلال بہت سے گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے کہ مؤمن کا اس کے ذریعہ چوری،حرام خوری،نام نمود،دکھاوا،محتاجی سے بچنے کا ذریعہ ہے۔
۳
؎یعنی اگر میرے پاس دولت نہ ہوتی تو مجھے حکام رومال کی طرح استعمال کرتے کہ اپنی گندگی مجھ سے صاف کرتے، مجھے پیسوں کا لالچ دے کر غلط فتویٰ لیتے اور میرے فتووں سے اپنے ظلم جائز کرا لیا کرتے،غریب مولوی کا علم امیروں کے پیسہ پر نچھاور ہوتاہےالا ماشاء اﷲ۔مندیلبنا ہےندلسے بمعنی میل،مندیلمیل دور کرنے کا آلہ یعنی رومال،مالدار کا مولٰی صرف اتعالٰی ہے غریب کا مولٰی ہر امیر ہے۔
۳
؎یعنی اپنے مال کو ضائع نہ ہونے دے اسے بڑھانے کی کوشش کرے،مال کی قدر کرے خصوصًا عالم دین کے لیے مال بہت ہی ضروری ہے کہ مالدار عالم کے وعظ میں تاثیر اور ہی ہوتی ہے۔
۵
؎دیکھ لو غریب مسلمانوں سے مال کے ذریعہ جھوٹی گواہیاں حرام پیسے بلکہ قتل و خون کرائے جاتے ہیں اور غریب علماء سے پیسہ کے ذریعہ غلط فتوے لکھوائے جاتے ہیں،غریب اماموں سے پیسہ دے کر ناجائز نکاح پڑھوائے جاتے ہیں، متھرا آگرہ کے علاقہ میں ہزار ہا غریب مسلمانوں کو پیسہ دے کر ہندو بنالیا گیا یہ فرمان بالکل درست ہے۔
۶
؎یعنی حلال مال اس لائق نہیں کہ اسے فضول خرچی کرکے برباد کردیا جائے،اس کی قدرو منزلت کرنی چاہیے یا حلال مال میں فضول خرچی کی گنجائش نہیں وہ اتنا زیادہ نہیں ہوتاکہ اس میں فضول خرچی کی جائے۔اردو میں کہتے ہیں مال حرام بجائے حرام یا مال مفت دل بے رحم،یا یہ مطلب ہے کہ حلال روزی کو فضول خرچی سے اڑا کر دوسروں کا محتاج بن جانا حماقت ہے،اسے سنبھالو تاکہ اوروں کے محتاج نہ بنو،قرآن کریم فرماتاہے:"لَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوٰلَکُمُ الَّتِیۡ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ قِیٰمًا"اپنا مال ناسمجھ بچوں کو نہ دو الله نے مال کو تمہاری بقا کا ذریعہ بنایا ہے یا یہ مطلب ہے کہ حلال مال میں فضول خرچی بربادی نہیں واقع ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5291