Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5290

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ، قَالَ: "أَجَلْ"، قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى، وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ"رَوَاهُ أَحْمَدُ.

عن رجل من أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: كنا في مجلس فطلع علينا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعلى رأسه أثر ماء، فقلنا: يا رسول الله نراك طيب النفس، قال: "أجل"، قال: ثم خاض القوم في ذكر الغنى، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا بأس بالغنى لمن اتقى الله عز وجل، والصحة لمن اتقى خير من الغنى، وطيب النفس من النعيم"رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے نبی صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں تھے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے تجلی فرمائی(تشریف لائے)۲؎آپ کے سر پر پانی کا اثر تھا ہم نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ہم حضور کو بہت خوش دل دیکھ رہے ہیں۳؎فرمایا ہاں،راوی کہتے ہیں کہ پھر قوم امیری کے ذکر میں مشغول ہوگئی۴؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مالداری میں حرج نہیں اس کے لیے جو الله سے ڈرے ۵؎متقی کے لیے تندرستی امیری سے بہتر ہے۶؎اور دل کی خوشی نعمتوں میں سے ہے ۷؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ صاحب یسار ابن عبد ہیں جیساکہ حاکم اور ابن ماجہ میں ہے،چونکہ تمام صحابہ بحکم قرآن عادل ہیں کوئی صحابی فاسق نہیں اس لیے صحابی کا نام معلوم نہ ہونا حدیث کی صحت کے لیے مضر نہیں۔(مرقات)
۲
؎ایسے تشریف لائے جیسے سورج طلوع کرتا ہے کہ رات کو دن اندھیرے کو اجالا بنا دیتا ہے،سوتوں کو جگا دینا طلع فرمانا بہت ہی موزوں ہے۔
۳
؎یعنی حضور نے غسل کیا ہے جمال باکمال اور بھی نکھر گیا ہے،چہرہ انور پر خوشی کے آثار ہیں ۔احضور کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے،رنج و غم کی ہوا بھی نہ لگائے کہ ان کی خوشی سے دنیا کی خوشی وابستہ ہے،ان کا جمال سب کی خوشی کا ذریعہ ہے۔
۴
؎کسی نے وجہ نہ پوچھی کہ اس خوشی کا سبب کیا ہے بلکہ اور گفتگو شروع ہوگئی اس میں مالداری کا ذکر بھی تھا کہ یہ اچھی ہے یا بری۔
۵
؎لاباسفرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ فقر مع صبر افضل ہے غنی مع شکر سے،یہ بہت بڑی بحث ہے یعنی غنی جب خوف خدا کے ساتھ ہو تو اس میں حرج نہیں۔
۶
؎یعنی دنیا میں دل کا چین روح کا آرام اکی بڑی نعمت ہے،رب فرماتاہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"وہاں دو جنتوں سے مراد ہے دنیا کی جنت یعنی دل کا چین اور آخرت کی جنت الله رسول کا دیدار،مال کی خوشی الله کے ذکر اللہ والوں کے قرب سے نصیب ہوتی ہے۔
۷
؎کیونکہ مالداری کا انجام حساب بلکہ کبھی عقاب ہے جس سے فقراء دور ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5290