Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5289

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا.وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن شداد بن أوس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت، والعاجز من أتبع نفسه هواها.وتمنى على الله". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قریب کردے ۲؎اور بعد موت کے لیے عمل کرے۳؎اورعاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگادے اور اپر آرزو میں رکھے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں کہ آپ حضرت حسان ابن ثابت کے بھتیجہ ہیں،خود بھی صحابی ہیں والد بھی صحابی،آخر میں بیت المقدس میں رہے،آپ علم و حلم دونوں کے جامع تھے،آپ کی کنیت ابو یعلٰی انصاری ہے،صحابہ کرام آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔(اشعہ، مرقات)
۲
؎دانکے بہت معانی ہیں اگردُنوسے بنا ہے تو بمعی قریب کرنا،قریب جاننا ہے اوردینسے بنا ہے جو مغلوب ہےدنیکا تو بمعنی عاجز کرنا ہے عاجز سمجھنا ہے،بعض نے فرمایا کہ بمعنی حساب لینا ہے یعنی اپنے کو اتعالٰی سے اس کے رسول سے نیک بندوں سے قریب رکھے یا اپنے کو موت سے قریب جانے یا اپنے اعمال کا خود حساب لیتا رہے نیک اعمال پر شکر کرے برے اعمال سے توبہ۔
۳
؎یعنی کوئی کام نفس یا دنیا کے لیے نہ کرے ہر کام آخرت کے لیے کرے حتی کہ اس کا کھانا پینا،چلنا پھرنا،سونا جاگنا بلکہ جینا مرنا اکے لیے ہو"اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"ایسا آدمی دنیا میں رہتا تو ہے مگر دنیا دار نہیں ہوتا اتعالٰی اس پر عمل کی توفیق دے۔
۴
؎اس فرمان عالی میں عاجز سے مراد بے وقوف ہے کیس کا مقابل،نفس امارہ سے دبا ہوا یعنی وہ بے وقوف ہے جو کام کرے دوزخ کے اور امید کرے جنت کی،کہا کرے الله غفور و رحیم ہے،باجرہ بوئے اور امید کرے گیہوں کاٹنے کی،کہا کرے کہ الله غفور رحیم ہے کاٹتے وقت اسے گندم بنادے گا اس کا نام امید نہیں رب تعالٰی فرماتاہے:"مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیۡمِ"اور فرماتا ہے:"اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوۡنَ رَحْمَتَ اللہِ"۔جو بو کر گندم کاٹنے کی آس لگانا شیطانی دھوکہ اور نفسانی وسوسہ ہے۔خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کو جھوٹی امید نے سیدھی راہ نیک اعمال سے ہٹا دیا ہے جیسے جھوٹی بات گناہ ہے ایسے ہی جھوٹی آس بھی گناہ ہے کرو اور ڈرو۔(اشعہ،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5289