Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5292

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ أَبْنَاءُ السِتِّينَ؟ وَهُوَ الْعُمُرُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: ينادي مناد يوم القيامة: أين أبناء الستين؟ وهو العمر الذي قال الله تعالى: أولم نعمركم ما يتذكر فيه من تذكر وجاءكم النذير. رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن پکارنے والا پکارے گا کہ ساٹھ سالہ لوگ کہاں ہیں ۱؎یہ عمر وہ ہے جس کے متعلق اتعالٰی فرماتا ہے کیا ہم نے تم کو اس قدر عمر نہ دی جس میں نصیحت پکڑنے والا نصیحت پکڑے ۲؎اور آیا تمہارے پاس ڈرانے والا ۳؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہلے ساٹھ سالہ بوڑھے حاضر ہوں اپنی عمروں کا حساب دیں کہ انہوں نے اتنی دراز عمر کس کام میں خرچ کی۔
۲
؎کیونکہ انسانی عمر کے تین حصے ہوتے ہیں: بچپن،جوانی،بڑھاپا۔ساٹھ سالہ آدمی یہ تینوں حصہ پالیتا ہے،بچپن میں نہ سنبھلے تو جوانی میں سنبھل جائے،اگر جوانی میں نہ سنبھلے تو بڑھاپے میں ٹھیک ہو لیکن اگر بڑھاپے میں بھی نہ درست ہو تو پھر کب ہوگا اب تو صرف موت ہی باقی ہے لہذا بڈھا گنہگار کوئی عذر و معذرت نہیں کرسکتا۔
۳
؎ڈرانے والے سے مراد رسول الله صلی الله علیہ وسلم یا قرآن مجید یا بڑھاپا یا موت ہے،بوڑھے کے پاس یہ سارے ڈرانے والے پہنچ جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5292