Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5286

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ ابْنِ خَالِدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ مَاتَ الآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا، فَصَلَّوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا قُلْتُمْ؟ " قَالُوا: دَعَوْنَا اللَّهَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟ " أَوْ قَالَ: "صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ، لَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عبيد ابن خالد: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- آخى بين رجلين، فقتل أحدهما في سبيل الله، ثم مات الآخر بعده بجمعة أو نحوها، فصلوا عليه، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "ما قلتم؟ " قالوا: دعونا الله أن يغفر له ويرحمه ويلحقه بصاحبه، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "فأين صلاته بعد صلاته وعمله بعد عمله؟ " أو قال: "صيامه بعد صيامه، لما بينهما أبعد مما بين السماء والأرض". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید ابن خالد سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان بھائی چارہ فرمایا ۱؎تو ان میں سے ایک اکی راہ میں مارا گیا پھر ایک ہفتہ یا اس کے قریب میں دوسرا آدمی فوت ہوا ۲؎لوگوں نے اس پر نماز پڑھی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کیاکہا ۳؎عرض کیا ہم نے اسے دعا کی کہ اسے بخش دے اس پر رحم کر اسے اس کے ساتھی سے ملادے۴؎تب نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس شہید کے بعد اس کی نمازیں اور اس کے عمل یا فرمایا شہید کے روزوں کے بعد اس کے روزے کہاں گئے ان کے درمیان کا فاصلہ آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ ۵؎دراز ہے(ابوداؤ د،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ بڑا بدنصیب ہے جس کی زندگی دراز اور اس کے گناہ نیکیوں سے زیادہ ہوں،اس کی زندگی ہر دن اس کے گناہوں میں اضافہ کرے۔
۲
؎یہ حدیث طبرانی،حاکم،بیہقی ابو نعیم نے مختلف راویوں اور مختلف الفاظ سے روایت فرمائی ان الفاظ سے اور حضرت ابوبکرہ سے صرف ان دو کتب میں ہی ہے۔(مرقات)آپ صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبداہے،کوفہ کے رہنے والے ہیں،مہاجر ہوکر مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے لہذا مہاجر ہیں۔(اشعہ،مرقات)یا تو یہ دونوں شخص مہاجر تھے یا ایک ان میں سے مہاجر تھے دوسرے انصاری،دوسرا احتمال قوی ہے کیونکہ عقد مواخات بھائی چارے کا رشتہ مہاجر اور انصاری میں کیا جاتا تھا۔یہ پتہ نہیں چلا کہ شہید کون صاحب ہوئے مہاجر یا انصاری، بہرحال ایک صاحب پہلے شہید ہوئے ہیں اور دوسرے صاحب کچھ بعد اپنے بستر پر فوت ہوئے۔
۳
؎یعنی اس میت کی نماز جنازہ میں تم نے اس کے لیے کیا دعا کی۔خیال رہے کہ نماز جنازہ میں دعاء ماثورہ تو پڑھی ہی جاتی ہے اس کے علاوہ اور دوسری دعاؤ ں کی بھی اجازت ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں اور بہت دعائیں کی ہیں۔
۴
؎یعنی یہ صاحب شہید نہیں ہوئے اور ان کا بھائی ایک ہفتہ پہلے شہید ہوگیا،مولٰی تو اپنے کرم سے اس کو اسی شہید کا درجہ عطا فرما،ان دونوں کو وہاں بھی برابر اور یکجا کردے جیسے وہ یہاں یکجاتھے۔سبحان اﷲ!بڑی پیاری دعا کی۔
۵
؎یعنی اس شخص کو جو یہ سات دن زیادہ مل گئے ان دنوں میں اس نے نماز روزے اور دوسری نیکیاں کیں اس لیے ان کا درجہ اس شہید سے زیادہ ہوگیا۔خیال رہے کہ یہ صاحب مرابط تھے یعنی جہاد کے لیے ہر دم تیار اور مرابط کو درجہ شہادت کا ملتا ہے لہذا شہادت میں ان شہید کے برابر ہوگئے ان سات دن کے اعمال میں ان سے بڑھ گئے،نیز بعض غیر شہید شہید سے بڑھ جاتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ تلوار سے شہید نہیں ہوئے مگر شہیدوں سے افضل ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"مِنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ" صدیق کو شہید پر مقدم فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5286