Main Icon

باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5288

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ"، فَقِيلَ: وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الموتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أنس أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن الله تعالى إذا أراد بعبد خيرا استعمله"، فقيل: وكيف يستعمله يا رسول الله؟ قال: "يوفقه لعمل صالح قبل الموت". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اتعالٰی جب کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اس سے کام لیتا ہے ۱؎عرض کیا گیا یارسول الله کیسے کام لیتا ہے ۲؎فرمایا اسے موت سے پہلے نیک اعمال کی توفیق دیتا ہے۳؎(ترمذی)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا بندہ سے مراد بندہ مؤمن ہے یعنی اتعالٰی اپنے بندہ مؤمن کی جب بھلائی چاہتا ہے تو نہ تو اسے رہنے دے کہ وہ اپنی زندگی برباد و ضائع کردے،نہ اسے گناہوں میں مبتلا ہونے دے۔ممکن ہے کہعبدسے مراد ہر بندہ مؤمن و کافر ہے،الله تعالٰی اپنے بندہ کو کافر نہیں رہنے دیتا آخر کار وہ مؤمن ہوجاتا ہے۔
۲
؎یعنی انسان کام ہمیشہ ہی کرتا ہے کوئی شخص بے کار نہیں رہتا جاگنا،چلنا،پھرنا بھی تو کام ہی ہیں سرکار نے کام سے کون سا کام مراد لیا ہے۔
۳
؎یعنی کام سے مراد نیک کام ہیں اور کام لینے سے مراد اس کی موت کے قریب کام لینا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ایسے بندے کا انجام اچھا ہوتا ہے اگرچہ زندگی گناہوں میں گزارے مگر توبہ کرکے گناہوں کا کفارہ ادا کرکے مرتا ہے خاتمہ کا اعتبار ہے۔اس حدیث سے دو فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ مؤمن کی زندگی موت سے افضل ہے۔(اشعہ)کہ زندگی عمل کا وقت ہے دوسرے ہر کسی گنہگار کے متعلق ہم فیصلہ نہیں کرسکتے کہ وہ دوزخی ہی ہے یہ تو اکو خبر ہے،ممکن ہے کہ وہ مرتے وقت نیک ہوجائے۔خیال رہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ موت زندگی سے افضل ہے کہ وہ راحت آرام اور اپنے کام کے پھل پانے کا زمانہ ہے۔عشاق کہتے ہیں کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی حیات شریف کے زمانہ میں مؤمن کی زندگی فراق کا زمانہ ہے موت یار کے دیدار کا ذریعہ ہے۔
سنا ہے قبر میں دیدار ہوگا بے حجابانہ کفن کو پھاڑ کر اٹھیں گے مردے اپنی مدفن سے
۴
؎یہ حدیث حاکم نے بسند صحیح،احمد،ابن حبان،طبرانی نے مختلف صحابہ سے مختلف عبارتوں سے روایت کی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5288