Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6127

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هٰذَاخَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: كَانَ سَعْدٌ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَلِذٰلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هٰذَاخَالِي»وَفِي «الْمَصَابِيحِ» :"فَلْيُكْرِمَنَّ" بَدَلَ "فَلْيُرِنِي"

وعن جابر قال: أقبل سعد فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «هذاخالي فليرني امرؤ خاله» . رواه الترمذي وقال: كان سعد من بني زهرة وكانت أم النبي صلى الله عليه وسلم من بني زهرة فلذلك قال النبي صلى الله عليه وسلم: «هذاخالي»وفي «المصابيح» :"فليكرمن" بدل "فليرني"

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جناب سعد حاضر ہوئے تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ ہیں میرے ماموں کوئی شخص مجھے اپنا ایسا ماموں دکھائے ۱∞؎(ترمذی)اور کہا کہ سعد بنی زہرہ سے تھے اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی والدہ بنی زہرہ سے تھیں ۲؎اسی لیے نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ میرے ماموں ہیں اور مصابیح میں بجائےفلیرنیکےفلیکرمنہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایسا شاندار ماموں کسی کو نہیں ملا جیسا ماموں الله نے مجھے دیا ہے۔یہ حضرت سعد کی انتہائی عظمت ہے؎اولئك ابائی فجئنی بمثلہم
انما جمعتنا یا جریر المجامع
۲؎زہرہ زوجہ ہیں کلاب ابن کعب ابن لوی ابن غالب کی جناب آمنہ حضور صلی الله علیہ و سلم سے مل جاتی ہیں،کلاب میں اور زہرہ کی اولاد میں حضرت سعد بھی ہیں اس طرح حضرت سعد جناب آمنہ کے خاندان سے ہوئے اور ماں کا سارا خاندان خواہ دادا کی طرف سے ہو یا نانا کی طرف سے اپنے نانا ماموں ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت آمنہ رضی الله عنہا کی دادھیال مکہ معظمہ میں ہے اور ننہال مدینہ طیبہ میں اس نسبت سے انصار مدینہ بھی حضور صلی الله علیہ و سلم کے نانا ماموں ہیں اور ادھر حضرت سعد ابن ابی وقاص بھی۔
۳
؎اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے دیکھ لیا کہ میں اپنے ماموں سعد کا کیسا ادب و احترام کرتا ہوں تم لوگ بھی اپنے نانا ماموں کا اسی طرح احترام و ادب کیا کرو،میرا یہ عمل تمہارے لیے سبق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6127