Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6122

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلٰى رَجُلٍ يَمْشِي عَلٰى وَجْهِ الْأَرْضِ وَقَدْ قَضٰى نَحْبَهٗ فَلْيَنْظُرْ إِلٰى هٰذَا .وَفِي رِوَايَةٍ: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَنْظُرَ إِلٰى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلٰى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلٰى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن جابر قال: نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى طلحة بن عبيد الله قال: من أحب أن ينظر إلى رجل يمشي على وجه الأرض وقد قضى نحبه فلينظر إلى هذا .وفي رواية: من سره أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طلحہ ابن عبیدالله کی طرف دیکھا فرمایا جو اس شخص کو دیکھنا چاہے جو روئے زمین پر چل رہاہے اور اس نے اپناعہدو پیمان پورا کردیا تو انہیں دیکھے ۱∞؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جو اس شہید کو دیکھنا چاہے جو روئے زمین پر چل رہا ہے وہ طلحہ ابن عبیدالله کو دیکھے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎نحببمعنی نذر بھی آتا ہے اور بمعنی موت بھی یہاں موت کی نذر مراد ہے۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ حضرت طلحہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے حضور صلی الله علیہ و سلم کے بھیجے ہوئے تھے ابوسفیان کے قافلہ کی تحقیقات کے لیے،جب واپس ہوئے تو افسوس کیا اور فرمایا کہ اب اگر کوئی غزوہ ہوا تو میں اس کا بدلہ کرکے دکھادوں گا،جنگ احد میں وہ کارنامے کرکے دکھائے کہسبحان الله!قریبًا اسی زخم کھائے حضور کی حفاظت کرتے ہوئے حتی کہ آپ کا ایک ہاتھ خشک ہوگیا پھر حضور کے قدموں کے نیچے بیٹھے کہ حضور ان کی پشت پر قدم رکھ کر پتھر کی چٹان پر چڑھے،اس پر انعامات عطا ہوئے۔اس فرمان میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ"مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عٰھَدُوا اللّٰهَ عَلَیۡهِ فَمِنْهُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحْبَہٗ
۲
؎اس فرمان عالی کے تین مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ حضرت طلحہ جنگ احد میں درحقیقت شہید ہوچکے ہیں اب ان کی زندگی صرف ظاہری ہے جو اتنے کارنامے کرچکا ہو وہ شہید ہی ہے۔دوسرے یہ کہ آئندہ چل کر یہ جنگ جمل میں شہید ہوں گے یہ عندالله شہید ہیں ان کا نام شہداء کی فہرست میں ہے۔تیسرے یہ کہ ان کا جسم تو اس عالم شہادت میں ہے مگر ان کا دل عالم غیب میں پہنچ چکا ہے یہ روحانی جنانی شہید ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6122