Main Icon

باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6121

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ عَلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَعَدَ طَلْحَةُ تَحْتَهٗ حَتّٰى اسْتَوٰى عَلَى الصَّخْرَةِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن الزبير قال: كان على النبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد درعان فنهض إلى الصخرة فلم يستطع فقعد طلحة تحته حتى استوى على الصخرة فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أوجب طلحة . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں کہ احد کے دن نبی صلی الله علیہ و سلم پر دو زرہیں تھیں ۱∞؎آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے ۲؎مگر نہ چڑھ سکے تو حضرت طلحہ آپ کے نیچے بیٹھ گئے حتی کہ حضور چٹان پر چڑھ گئے ۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو میں نے فرماتے سنا کہ طلحہ نے جنت واجب کرلی ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎زرہ لوہے کی قمیض ہے جو جنگ میں پہنی جاتی تھی،یہ بہت وزنی ہوتی تھی،دو زرہ بہت بڑا طاقت ور ہی پہن سکتا تھا کہ اتنے وزن کو پہن کر چلنا دوڑنا معمولی کام نہ تھا۔
۲
؎یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کے قدم اکھڑنے لگے تھے آپ اونچی جگہ کھڑے ہوکر جنگ کا حال اورمسلمانوں میں دوڑنے والے اور کھڑے رہنے والوں کو دیکھنا چاہتے تھے،اسی جنگ میں عتبہ ابن ابی وقاص نے آپ کے دانت پر تیر مارا جس سے آپ کا دانت شہید ہوا اور نیچا ہونٹ زخمی ہوگیا،عبدالله ابن شباب نے آپکا چہرہ زخمی کردیا،ابن حمیہ نے حضور کی کنپٹی زخمی کردی اس زرہ کے دوحلقے آپ کے سر میں گڑھ گئے،عامر نے ایک خفیہ گڑھا کھودا ہوا تھا اس میں حضور گر گئے،ابو سعید خدری نے حضور کے چہرہ کا خون چوسا حضور نے فرمایا کہ جو میرا خون اپنے خون سے ملادے وہ جنتی ہے۔(مرقات)
۳
؎یہ حضرت طلحہ کی انتہائی ہمت و قوت ہے کہ بار نبوت مع دو زرہوں کے اپنی پشت پر اٹھالیا یہ طاقت رب نے عطا فرمائی حضور انور دو زرہوں کا بوجھ لے کر اس چٹان پر نہ چڑھ سکے ابو طلحہ سیڑھی بن کر نیچے بیٹھ گئے اور حضور انور چٹان پر چڑھ گئے آپ کی پیٹھ پر قدم رکھ کر۔
۴
؎یہ خدمت پسند آگئی فرمایا طلحہ کے لیے جنت واجب ہوگئی اسی خدمت کی وجہ سے۔معلوم ہوا کہ لاکھوں نماز روزے سجدے سجود جہاد سے حضور کی خدمت افضل ہے،اسی غزوہ میں حضرت طلحہ نے اپنے جسم کو حضور کی ڈھال بنا کر اسی۸۰ زخم کھائے،یہ جنتی نہ ہوں تو کون ہو آپ اتنے زخم کھا چکنے کے بعد حضور انور کے نیچے سیڑھی بن کر بیٹھے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6121